خطبات وقف جدید — Page 339
339 حضرت خلیفہ مسیح الرابع عزتیں دیں اموال دیئے جائیں عطافرما ئیں۔کئی قسم کی سہولتیں ہمیں بخشیں۔آغاز میں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت باوجود اسکے کہ جماعت بہت چھوٹی اور بہت کمزور تھی اور بہت غریب تھی اور ان کے پاس بچت کی نسبت بہت تھوڑی تھی ایسے حالات تھے کہ اکثر احمدی بمشکل زندہ رہنے کے لئے گزارے پا رہے تھے بہت کم تھے جو ان میں غیر معمولی طور پر متمول شمار ہو سکتے ہوں لیکن انہوں نے خدا کی راہ میں اپنے اموال بھی دیئے۔اپنی عزتیں بھی قربان کیں اپنے تعلقات اپنی دوستیاں اپنی رشتہ داریاں۔کوئی ایسی چیز جس کی انسان قدر کر سکتا ہے ایسی نہیں جو اس دور میں جماعت احمدیہ نے خدا کی راہ میں قربان نہ کر دی ہو۔جو کچھ ان کو حاصل تھا وہ سب کچھ دے دیا ایسے خطر ناک حالات تھے کہ اس زمانے میں بعض علاقوں کے متعلق انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہاں کے معزز لوگ تمام عزتوں کو اپنے ہاتھ سے تج کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہہ دیں گے یہ ایک لمبی کہانی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا جو کچھ انہوں نے خدا کی راہ میں پیش کیا اس کو بہت بڑھا کر اللہ تعالیٰ نے انکی آئندہ نسلوں اور ان کے خاندانوں کو عطا فرمایا۔آج دنیا کے کونے کونے میں احمدی نسلیں جو ان بزرگوں کی نسلیں ہیں پھیلی پڑی ہیں وہ گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کسی ایک چیز کو بھی ان کے لئے اپنے پاس رکھا نہیں بلکہ یقبضُ وَيَبصُط کے مضمون کو بڑی شان کے ساتھ پورا فرمایا ہے ان کو وسعتیں عطا کیں ان کی عزتیں بڑھائیں ان کے اموال بڑھائے ان کی طاقتیں بڑھائیں ان کے اثر ورسوخ بڑھائے انکی جانوں کو برکت دی انکے خاندانوں اور ان کی نسلوں کو برکت عطاء فرمائی غرضیکہ ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑھا چڑھا کر ان کو وا پس فرمایا۔آج ایک سو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے اور اس ایک سو سال میں ہم مسلسل اللہ تعالیٰ کے بڑھتے ہوئے ، وسیع تر ہوتے ہوئے فضلوں کا نظارہ کرتے چلے آئے ہیں اس لحاظ سے آج جو ہمیں قربانی کی توفیق مل رہی ہے اس پر اگر آپ غور کریں تو یہ بھی انہی قربانیوں کے بچے ہیں۔جو قربانیاں اس وقت تھوڑی نظر آتی تھیں آج زیادہ ہو کر دکھائی دے رہی ہیں تو یہ بھی دراصل يقبضُ وَيَبْصُطُ کے مضمون سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔قربانیوں کی طاقت کو بھی خدا تعالیٰ بڑھاتا ہے قربانیوں کے مظاہروں کو بھی اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے اور ایک نسل جو اس بات کا عرفان نہ رکھتی ہو بعض دفعہ بیوقوفی میں یہ کہ سکتی ہے کہ ہم زیادہ قربانیاں دے رہے ہیں ہم زیادہ وقت دے رہے ہیں ہم منتظم طور پر زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن اس بات کو وہ بھول جاتے ہیں کہ در اصل ان کے آباء کی قربانیاں ہیں جو بحیثیت قربانی برکت پارہی ہیں۔پس جو کچھ آج ہم روحانی لحاظ سے مٹی میں ملا رہے ہیں یامٹی میں ملانے کی توفیق پارہے ہیں، مٹی میں ملانے کی سعادت پارہے ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ صدی ان قربانیوں کے بکثرت