خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 27 of 682

خطبات وقف جدید — Page 27

27 حضرت مصلح موعود کی کوشش کروں گا۔اس کے علاوہ اور بھی کئی لوگ تھے جنھوں نے اس وقت سو سو ، دو دوسو روپیہ چندہ لکھوا دیا تھا مگر بعد میں انھوں نے اس چندہ کو کم نہ کیا اور بڑھتے بڑھتے وہ سولہ سو، دو ہزار یا اڑھائی ہزار چندہ دینے لگ گئے۔یہ تحریک بھی آہستہ قدموں سے شروع ہوئی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ جماعت میں اس قد را خلاص اور جوش پیدا ہو جائے گا کہ وہ لاکھوں اور کروڑوں روپیہ دینے لگ جائے گی۔تم یہ نہ دیکھو کہ ابھی ہماری جماعت کی تعداد زیادہ نہیں اگر یہ سکیم کا میاب ہوگئی تو تم دیکھو گے کہ دو تین کروڑ لوگ تمہارے اندر داخل ہو جائیں گے اور جب دو کروڑ اور آدمی تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں گے تو آمد کی کمی خود بخود دور ہو جائے گی۔دو کروڑ آدمی 6 روپے سالانہ دے تو بارہ کروڑ بن جاتا ہے۔اگر ایک کروڑ روپے ماہوار آمد ہو تو دو لاکھ مبلغ رکھا جا سکتا ہے جو بیس لاکھ میل کے رقبے میں پھیل جاتا ہے اور اتنا رقبہ تو سارے پاکستان کا بھی نہیں۔پس ہمت کر کے آگے بڑھو اور وہی نمونہ دکھلاؤ کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من سرے صلى الله اں منم کاندرمیان خاک و خوں بینی دشمن تمہارے مقابلہ میں کھڑا ہے اور یہ جنگ روحانی ہے جسمانی نہیں۔اس جنگ میں دلائل اور دعاؤں سے کام لینا اصل کام ہے۔صحابہ کو دیکھ لو وہ تلواروں سے لڑتے تھے اور میدانِ جنگ میں ان کی گردنیں کٹتی تھیں مگر وہ اس سے ذرا بھی نہیں گھبراتے تھے۔جنگِ اُحد کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کے متعلق ہدایت فرمائی کہ اسے تلاش کرو وہ کہاں ہے۔صحابہؓ نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی لاش دوسری لاشوں کے نیچے کہیں دبی پڑی ہے اس لئے وہ کہیں ملی نہیں آپ نے فرمایا جاؤ اور پھر تلاش کرو چنا نچہ بہت تلاش کے بعد وہ صحابی ملے وہ زخمی تھے اور پیٹ پھٹا ہوا تھا۔تلاش کر نیوالے صحابی نے کہا اپنے رشتہ داروں کو کوئی پیغام پہنچانا ہے تو دے دو ہم پہنچادیں گے۔وہ کہنے لگے اور تو کوئی پیغام نہیں ، میرے عزیزوں صلى الله تک صرف اتنا پیغام پہنچا دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ ملے کی حفاظت کی اب یہ فرض تم پر ہے اور میری آخری خواہش یہ ہے کہ میرے خاندان کے سارے افراد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔اگر تم ایسا کرو تو میری یہ موت خوشی کی موت ہوگی۔تو دیکھو صحابہ نے تو عملی طور پر قربانیاں کی تھیں اور تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں تھوک میں بڑے پکائے۔دلیلیں دینا کونسی بڑی بات ہے دلیلیں دے کر گھر آگئے لیکن وہاں یہ ہوتا تھا کہ صحابہ میدانِ جنگ میں جاتے تھے اور پھر بسا اوقات انھیں اپنے بیوی بچوں کی دوبارہ شکل دیکھنی بھی نصیب نہیں