خطبات وقف جدید — Page 26
26 حضرت مصلح موعود وقف کر سکتے ہیں پھر ایک ایک دو دو ایکڑ دے کر کئی آدمی مل کر بھی اس میں حصہ لے سکتے ہیں بہر حال چوہدری صاحب کی زمین اور میری وقف شدہ زمین میں دو مرکز بن جائیں گے۔تیسرا مرکز ضلع مظفر گڑھ میں بنے گا وہاں کے ایک نوجوان نے لکھا ہے کہ میرا ایک مربع ہے جو مجھے فوجی خدمات کے صلہ میں ملا ہے وہ مربع میں آپکی اس سکیم میں دیتا ہوں مگر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کو اسطرح ساری زمین سے محروم کر دیں۔میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ ہم ان سے کہیں کہ اس زمین میں سے دس ایکڑ ہمیں کرایہ پر دے دیں اور باقی پندرہ ایکڑ وہ خود استعمال کریں اور دس ایکڑ کوئی معمولی زمین نہیں۔ہالینڈ میں میں نے دریافت کیا تھا وہاں تین ہزار روپیہ فی ایکڑ آمد ہوتی ہے اگر تین ہزار روپیہ فی ایکٹر آمد ہوتی ہو تو دس ایکڑ سے تمہیں ہزار آمد ہوسکتی ہے۔اگر سو مربع ہمیں اس سکیم میں مل جائے تو 75 لاکھ سالانہ آمد ہو جاتی ہے اور اس سے ہم سارے مشنوں کا خرچ چلا سکتے ہیں۔طریق ہم بتائیں گے کام کرنا ہمارے مبلغوں کا کام ہے اگر ان کو خدا تعالیٰ اسلام کی خدمت کا جوش دے اور وہ شیخ سعدی کے بیان کردہ واقعہ کو یا درکھیں تو یہ سکیم بہت اچھی طرح چلائی جاسکتی ہے کیونکہ جن لوگوں میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم حقیر اور ذلیل ہیں وہ صرف یہ بات جانتے ہیں کہ آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے میں وہ نہیں ہوں کہ جس کی پیٹھ تو جنگ میں دیکھے بلکہ تو میرے سر کو میدان میں خاک و خون میں لتھڑا ہوا پائے گا۔ہماری جنگ تلوار کی جنگ نہیں بلکہ دلائل کی جنگ ہے اور دلائل کی جنگ میں جس شخص میں کام کرنے کی روح پائی جاتی ہو وہ یہی کہتا ہے کہ میں وہ نہیں جو دلائل کے میدان میں اپنی پیٹھ دکھاؤں بلکہ اگر مقابلے کی صورت پیدا ہوئی تو میں سب سے آگے ہونگا اور جب تک میری جان نہ چلی جائے میں قربانی کا عہد نہیں چھوڑوں گا۔اگر اس طرز پر عمل کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سکیم بہت شاندار طور پر کامیاب ہو گی۔ابھی تو میری جلسہ سالانہ کی تقریر پر صرف 14 دن گذرے ہیں لیکن اب آ کر لوگوں کو میری تحریک کا احساس ہوا ہے اور انھوں نے اپنے نام لکھوانے شروع کئے ہیں۔اسی طریق پر ہر تحریک بڑھتی ہے۔جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تو جماعت کے لوگوں نے مجھے لکھا تھا کہ ہم نے تو آپ کی تحریک کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ 7000 روپیہ جمع کرنا ہے مگر اب وہ کام لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میں نے آپ کی تحریک پر بہت سا چندہ لکھوا دیا تھا اور یہ سمجھا تھا کہ آپ نے صرف ایک ہی دفعہ چندہ مانگا ہے لیکن اب میں اپنا چندہ کم نہیں کروں گا بلکہ اپنے وعدہ کے مطابق دینے