خطبات وقف جدید — Page 318
318 حضرت خلیفہ امسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 25 دسمبر 1987 ء بیت الفضل لندن) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: سال 1987 ء اب قریب الاختتام ہے، چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ہم اُن دنوں میں داخل ہو رہے ہیں جن دنوں میں ہمارا جلسہ سالانہ مرکز میں ہوا کرتا تھا یعنی پہلے قادیان میں اور پھر ربوہ میں۔قادیان میں تو اب بھی اسی تاریخ پر جلسہ منعقد کیا جاتا ہے چنانچہ حال ہی میں وہاں سے جو اطلاع ملی ہے باوجود اس کے کہ پنجاب کے عمومی حالات بہت قابل فکر ہیں اور امن وامان کی صورت تسلی بخش نہیں اور باوجود اس کے کہ حکومت ہندوستان ، ان حالات کے پیش نظر نہ کہ کسی مذہبی جماعت کو دبانے کی خاطر ان علاقوں میں لوگوں کو جانے کی عموماً اجازت نہیں دیتی خدا تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ قادیان نہایت ہی کامیاب رہا۔دُور دُور سے لوگ وہاں تشریف لائے اور چند دن نہایت ہی اعلیٰ پاکیزہ روحانی ماحول میں تربیت پاتے ہوئے اور تربیت کرتے ہوئے وقت گزارا اور غیر معمولی طور پر وہاں دعاؤں کی بھی توفیق ملی جہاں تک پاکستان میں ہونے والے جلسہ سالانہ کا تعلق ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کچھ عرصہ سے حکومت پاکستان نے اس جلسہ کی اجازت روک رکھی ہے۔طبعی بات ہے کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ پاکستان کے دل غیر معمولی طور پر درد سے بھر جاتے ہیں۔جوں جوں جلسہ کا وقت قریب آتا ہے ان کے خطوط میں یہ پہلو نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے ، بے چینی اور بے قراری بڑھتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ امسال بھی دسمبر بلکہ اس سے پہلے سے ہی خطوط میں یہ پہلو بڑا نمایاں طور پر اُبھرنا شروع ہوا کہ جلسہ کے دن قریب آرہے ہیں جلسہ سالانہ یہاں منعقد نہ ہونے کی ہمیں بہت تکلیف ہے بعض دوستوں نے تو بہت ہی دردناک خطوط لکھے۔عمو ماساری دنیا میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک بہت ہی اہم بنیادی حق سے محروم کئے گئے ہیں۔جہاں تک غم کے پیدا ہونے کا تعلق ہے یہ تو ایک طبعی بات ہے اس سے روکا نہیں جاسکتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی سے بھی طبعی حالات کے تابع غم کے اثر کے نیچے آتے تھے لیکن غم آپ پر قبضہ نہیں کیا کرتا تھا۔غم آپ کی ہمت میں کمی پیدا نہیں کیا کرتا تھا۔پس غم کا پیدا ہونا یا آنکھوں کا غمناک ہو جانا یا آنسوؤں کا بہنا اس وقت تک اچھی علامت ہے جبتک اس کے نتیجہ میں ہمت میں کمی نہ آئے اور حوصلوں کا سر نہ جھکے اس لئے جس چیز کو عورتوں کا رونا کہا جاتا ہے اس رونے میں اور باہمت مردوں کے رونے میں بڑا فرق ہے۔۔