خطبات وقف جدید — Page 317
317 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کیا جاتا تھا کہ ان کی ایک سو پندرہ سال کی عمر ہے اگر عمر اتنی نہ بھی تھی تو یہ تو پتہ لگتا تھا کہ سوسال سے اوپر ہے۔بہر حال اس واقعہ کو بھی پندرہ بیس سال ہو چکے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کا دماغ بالکل صاف رکھا۔جو رپورٹ آئی ہے اس میں بھی لکھا ہوا ہے کہ آخر وقت تک دماغ بالکل صاف تھا اور میرے بارہ میں پوچھتے تھے کہ وہ کب واپس آئے گا۔ان کے دل میں بڑی تمنا تھی کہ میں انکی نماز جنازہ پڑھاؤں۔دوسرے ان کی ایک خاص دلچسپ ادا یہ تھی کہ اپنا کفن بنوا کے اور بعض دفعہ آب زم زم میں ڈبو کر اور اسی طرح اپنا تابوت بنوا کے رکھا کرتے تھے۔کفن اور تابوت کو پڑے ہوئے اتنی دیر ہو جاتی تھی کہ کئی دوسرے فوت ہو جاتے تھے اور یہ زندہ رہتے تھے تو بعض دفعہ اچانک ضرورت کے وقت انکے عزیز انکا بنایا ہوا تابوت اور کفن دوسروں کو دے دیا کرتے تھے۔ان کے بچے بڑے خدمت گزار ہیں ایک دفعہ مجھ سے شکایت کی کہ ان کو ذرا سمجھائیں میرا کفن لوگوں کو دے دیتے ہیں میں نے کہا آپ کا کفن کس طرح دے سکتے ہیں کیا مطلب؟ تو پھر انہوں نے واقعہ بتایا کہ کہ کس طرح میں کفن اور تابوت بنواتا ہوں اور یہ لوگوں کو دے دیتے ہیں۔یہ نہ ہو کہ میری موت آئے اور اس وقت کچھ بھی تیار نہ ہو۔کئی کفن ان کے تیار ہوئے کئی تابوت بنے۔بالآخر اللہ کی تقدیر آئی اور ان کو لے گئی۔اللہ ان کو جنت میں اعلیٰ جگہ دے۔ان کی نماز جنازہ بھی ابھی ہوگی۔مکرم عزیز بوگیلو صاحب انکے متعلق ماریشس کی جماعت کے دوستوں نے درخواست کی ہے۔مکرمہ کریم بی بی صاحبہ اہلیہ چوہدری چراغدین صاحب یہ ہمارے چوہدری عبدالغفور صاحب صدر حلقہ Lemingtonspa کی والدہ محترمہ تھیں۔مکرمہ محمد بی بی صاحبہ موصیبہ مکرم چوہدری وحید سلیم صاحب آف لا ہور کی والدہ تھیں۔( چوہدری وحید سلیم صاحب کو خدا تعالیٰ ما شاء اللہ جماعت کی اچھی خدمت کی توفیق عطا فرماتا ہے بہت اچھے وکیل ہیں ) اور ہادی علی کے والد فرزند علی صاحب کی ہمشیرہ تھیں یعنی ہادی علی کی پھوپھی تھیں ان سب کی نماز جنازہ غائب نماز عصر کے بعد ہوگی۔۔۔۔۔۔