خطبات وقف جدید — Page 25
25 25 حضرت مصلح موعود میں ایک نمایاں مقام پیدا کر لے گی میں نے جلسہ سالانہ پر اس کے متعلق تحریک کی تھی اور پھر پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بھی اس کا ذکر کیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیسیوں خطوط جماعت کے افراد کے آئے انھوں نے لکھا کہ ہم نے جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی تقریر کا مفہوم نہیں سمجھا تھا مگر اب جو آپ کا پیغام چھپا ہے تو ہم نے اس کی حقیقت کو سمجھا ہے اس لئے اب ہم نے وقف اور روپیہ کے لئے اپنے نام لکھوانے شروع کر دئے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد اب تک چالیس وقف آچکے ہیں اور بارہ ہزار کے قریب آمد کا اندازہ ہے۔میں نے جو شکل وقف کی جماعت کے سامنے پیش کی ہے اور جس کے ماتحت میرا ارادہ ہے کہ پشاور سے کراچی تک اصلاح و ارشاد کا جال بچھا دیا جائے اس کے لئے ابھی بہت سے روپیہ کی ضرورت ہے اس کام کے لئے کم سے کم 6لاکھ روپے سالانہ کی ضرورت ہے۔اگر 6لاکھ روپیہ سالانہ آنے لگ جائے تو پھر پچاس ہزار روپیہ ماہوار بنتا ہے اور اگر ہم ایک واقف زندگی کا ماہوار خرچ پچاس روپیہ رکھیں تو ایک ہزار مراکز قائم کئے جا سکتے ہیں۔اور اس طرح ہم پشاور سے کراچی تک رشد و اصلاح کا جال پھیلا سکتے ہیں بلکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم نے رشد و اصلاح کے لحاظ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کا گھیرا کرنا ہے تو اس کے لئے ہمیں ایک کروڑ روپیہ سالانہ سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے۔اگر ڈیڑھ کروڑ روپیہ سالانہ آمد ہو بارہ لاکھ پچاس ہزار روپیہ ماہوار بنتا ہے۔اگر بارہ لاکھ روپیہ بھی ماہوار آئے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک واقفِ زندگی کا پچاس روپیہ ماہوار خرج مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے 24 ہزار نئی طرز کے واقف زندگی بن جاتے ہیں اور 24 ہزار واقف زندگی دولاکھ چالیس ہزار میل کے اندر پھیل جاتے ہیں۔کیونکہ ہم نے دس دس میل پر ایک آدمی رکھنا ہے اور گو ابھی تو اتنی رقم جمع نہیں ہو سکتی لیکن اگر اتنی رقم جمع ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے 24 ہزار آدمی رکھے جا سکتے ہیں، ہاں اگر یہ واقف زندگی ہمت کریں اور خوب کوشش کر کے جماعت بڑھانی شروع کر دیں تو ممکن ہے کہ اگلے سال ہی یہ صورت پیدا ہو جائے۔اب تک جو آمد آئی ہے وہ ایسی نہیں کہ اس پر زیادہ تعداد میں نو جوان رکھے جاسکیں۔لیکن جب رو پیہ زیادہ آنا شروع ہو گیا اور نو جوان بھی زیادہ تعداد میں آگئے اور انھوں نے ہمت کے ساتھ جماعت کو بڑھانے کی کوشش کی تو جماعت کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ سکیم کیسی مبارک اور پھیلنے والی ہے۔کد اس سکیم میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جہاں اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے چندہ لکھوایا ہے وہاں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کراچی کے پاس ٹھٹھہ میں میری زمین ہے اس میں سے میں اس سکیم کے ماتحت دس ایکڑ زمین وقف کرتا ہوں۔دس ایکڑ میں خود انشاء اللہ ضلع تھر پارکریا حیدر آباد کے ضلع میں وقف کروں گا۔اور ابھی تو اور بہت سے احمدی زمیندار ہیں جو اس غرض کے لئے زمین