خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 24 of 682

خطبات وقف جدید — Page 24

24 حضرت مصلح موعود تھا۔بادشاہ نے اسے بلایا اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا میں نے تم پر بڑا ظلم کیا ہے اور تمہاری بڑی بے قدری کی ہے۔جن کی میں قدر کیا کرتا تھا اور جن سے محبت کیا کرتا تھا وہ تو پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے لیکن تم میدان میں رہے اور میری جان کی حفاظت کرنے کے لئے آگے آئے۔اس پر اس لڑکے نے کہا اے باپ! ہر چہ بقامت کہتر بقیمت بہتر جو شخص قدوقامت اور صورت کے لحاظ سے ذلیل نظر آتا تھا وہ قیمت کے لحاظ سے بہت بہتر تھا یعنی آپ تو مجھے چھوٹے قد کا آدمی سمجھ کر نفرت سے دیکھا کرتے تھے لیکن آپ کو معلوم ہو گیا کہ جوقد وقامت اور صورت میں ذلیل نظر آتا تھا قیمت کے لحاظ سے وہی بہتر تھا۔یہ تو ایک آدمی کا قصہ ہے لیکن ہماری جماعت بھی گو تعداد کے لحاظ سے بہت تھوڑی ہے اور بقامت کہتر کی مصداق ہے لیکن بقیمت بہتر ہے۔امریکہ یورپ اور باقی ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈ اوہی گاڑ رہی ہے اور باقی مسلمان جن کو علماء نے اپنے سروں پر اٹھا رکھا ہے انھوں نے بیرونی ممالک میں کسی مسجد کی ایک اینٹ بھی نہیں لگوائی۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپ میں ہماری تین مسجدیں بن چکی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہمارا انشاء ہے کہ تھوڑے عرصہ میں ہی ایک اور مسجد بھی بنادی جائے۔ایک مسجد امریکہ میں بنانے کا میں نے آرڈر دے دیا ہے۔ایک مسجد لنڈن میں بنی ہے، ایک مسجد ہیگ میں بنی ہے ، ایک مسجد ہمبرگ (جرمنی) میں بنی ہے ، ایک فرینکفرٹ (جرمنی) میں بن رہی ہے۔جب یہ مسجد بن گئی تو انشاء اللہ ایک مسجد ہنوور (جرمنی) میں بنائی جائے گی پھر ایک زیورچ میں بنے گی ، پھر ایک روم میں بنے گی، پھر ایک نیپلز میں بنے گی، پھر ایک جینوا میں بنے گی ، پھر ایک دینیس میں بنے گی ، اور اس طرح یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا بہر حال ہماری جماعت اس وقت بقامت کہتر اور بقیمت بہتر کی مصداق ہے جو ہر جگہ مسجدیں بنا رہی ہے۔مسلمان ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان کے مقابلے میں آئے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔مولوی ظفر علی خان صاحب اب تو فوت ہو گئے اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے جب وہ زندہ تھے تو بڑی حقارت سے لکھا کرتے تھے کہ یہ لوگ تو مسلمانوں میں سو میں سے ایک بھی نہیں پاکستان کی ساری آبادی جس میں ہندو اور عیسائی بھی شامل ہیں 8 کروڑ ہے۔اگر ہندوؤں اور عیسائیوں کو نکال دیا جائے تو غالبا مسلمانوں کی آبادی 5 کروڑ رہ جاتی ہے اور ہماری تعدا د کا زیادہ سے زیادہ اندازہ دس لاکھ ہے۔ہندوستان کی آبادی 32 کروڑ ہے۔اس کے ساتھ پاکستان کی آبادی کو ملا لیا جائے تو یہ 40 کروڑ بن جاتی ہے اور دس لاکھ کی آبادی ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی لیکن اب اگر اللہ تعالیٰ ہمیں طاقت بخشے اور یہ نئی تحریک جو میں نے کی ہے پھیل جائے تو پھر امید ہے کہ ہماری جماعت اس ملک