خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 248 of 682

خطبات وقف جدید — Page 248

248 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 1982 ء بیت اقصیٰ ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان اور فضل اور کرم ہے کہ ہمارا جلسہ سالانہ ہر پہلو سے انتہائی کامیابی کیساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔کارکنان نے بھی مثالی خدمت کا حق ادا کیا۔چھوٹے کیا اور بڑے کیا ، مرد کیا اور عورتیں کیا ، سب نے ہی دن رات پورے انہماک اور پورے خلوص کے ساتھ اور دعائیں کرتے ہوئے جو کچھ ان کے بس میں تھا اپنے رب کے حضور پیش کیا۔کارکنان کی حاضری کی رپورٹ دیکھ کر میرا دل حمد سے بھر جاتا رہا کہ ان کی حاضری غیر معمولی طور پر بہتر رہی اور باوجود اسکے کہ کچھ موسم کی دشواریاں در پیش تھیں اور کچھ ایسے مسائل جو ہمیشہ جلسے کے ساتھ لگے رہتے ہیں، وہ اس دفعہ بھی لگے رہے۔بالعموم انتظام بہت اچھا تھا۔اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔مہمانوں نے بھی بہت تکلیف اٹھانے کے باوجود نہایت ہی صبر کا مظاہرہ کیا جیسا کہ آپ جانتے ہیں اب انتظامات اتنے پھیل گئے ہیں کہ خصوصیت کے ساتھ اچھے معیار کی روٹی پیش کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔کام تنوروں کی حد سے بہت آگے نکل گیا ہے۔اور جہاں تک مشینوں کا تعلق ہے اگر چہ احمدی انجینئر ز بہت محنت کر رہے ہیں لیکن ابھی تک مشین کے ذریعے اعلیٰ معیار کی روٹی تیار کرناممکن نہیں ہو سکا۔اگر چہ روز مرہ کے استعمال کیلئے تو ممکن ہے لیکن اتنے بڑے کام میں جہاں ضرورت فیصلہ کرتی ہے کہ رفتار کتنی تیز ہونی چاہیے وہاں ہم بعض دفعہ معیاری روئی پیش نہیں کر سکتے۔بعض انجینئر زایسے ہیں جنہوں نے اس کام پر سارا سال محنت کی ہے اور بہتری کے کچھ ذرائع بھی تجویز کئے۔جن پر اس دفعہ عمل بھی ہوا۔اور جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ خدا کے فضل کے ساتھ ان ذرائع سے بہت اچھے نتائج پیدا ہوئے ہیں لیکن ان سب ذرائع کو ابھی زیر نظر رکھنا پڑے گا۔پھر ان کو آہستہ آہستہ باقی انتظامات پر بھی ممند کرنا پڑے گا۔اسلئے میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ صورت حال دن بدن بہتر ہوتی چلی جائے گی۔مگر جہاں تک مہمانوں کا تعلق ہے وہ کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے اور جو کچھ بھی ان کو میسر ہوا، انہوں نے بڑے صبر اور شکر کے ساتھ ، راضی برضا رہتے ہوئے اسی پر کفایت کی۔اسی طرح آخری دن جلسے کے دوسرے حصے میں اگر چہ موسم بہت خراب تھا اسکے باوجود مہمانوں نے حیرت انگیز صبر کے ساتھ تقریر کو سنا۔ہم تو مسجد