خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 249 of 682

خطبات وقف جدید — Page 249

249 حضرت خلیفة المسیح الرابع کے اندر تھے اسلئے پوری طرح احساس نہیں ہوسکتا تھا کہ جو دوست باہر بیٹھے ہوئے ہیں وہ کتنی سردی کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔اور بولنے والے کا جسم تو ویسے ہی بولتے بولتے گرم ہو چکا ہوتا ہے اس لئے گرمی کا احساس تو اس کو ہوسکتا ہے، سردی کا احساس نہیں رہتا۔ی تو اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی اور اچھا ہی ہوا کہ ہمیں ساڑھے پانچ بجے مجبوراً جلسہ ختم کرنا پڑا۔بعد میں پتہ چلا کہ ساری جلسہ گاہ بھری پڑی تھی اور خصوصاً دیہاتی جماعتوں کے دوست گیلی پرالی کے اوپر بڑے صبر کیساتھ مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہے ہیں اور ایک آدمی بھی اٹھ کر باہر نہیں گیا۔جماعت احمدیہ کے صبر اور اخلاص کا یہ جو حیرت انگیز مظاہرہ ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے۔بات وہیں آتی ہے کہ اس جماعت کے تو اخلاص سے ڈر لگتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو حیرت انگیز اخلاص بخشا ہے جس کی مثال تو کیا اس کا عشر عشیر بھی دنیا کی دوسری تنظیموں میں آپ کو نہیں مل سکتا۔طوعی نظام ہو اور اس قد را خلاص اور محبت کیساتھ انسان اپنے وجود کو پیش کر دے اسکی کوئی مثال آپ کو جماعت سے باہر نہیں مل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا یہ ایک زندہ ثبوت ہمیشہ کیلئے قائم ودائم رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اس موقع پر خدا تعالیٰ کی حمد کرنا ہم پر فرض ہی نہیں بلکہ یہ خود بخو دل سے نکلتی ہے۔فرض والی بات سے تو ہم بہت آگے نکل چکے ہیں اب تو کیفیت یہ ہے کہ خدا کے احسانات دل میں پہنچتے ہوئے از خود حمد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جوں جوں ہم شکر کا حق ادا کر رہے ہیں لَا زِيدَنَّكُمْ کا قانون بھی برسر عمل رہتا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے مسلسل بڑھتے ہوئے فضلوں کو آسمان سے اترتا دیکھتے ہیں۔اسلام ایک بہت ہی پیار امذ ہب ہے۔یہ ایسا حیرت انگیز مذہب ہے اس کے ایک ایک جزو میں ڈوب کر انسان جنت حاصل کر سکتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَ نَّكُمُ (ابراہیم : 8 ) والا ایک ایسا جاری اور مسلسل عمل ہے کہ جو اس عمل میں ایک دفعہ داخل ہو جائے اسکے لئے جہنم کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔وہ ایک حمد سے دوسری حمد میں داخل ہوتا چلا جاتا ہے۔ایک منزل سے دوسری منزل میں منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانات کا لامتناہی سلسلہ ہے جس سے دل بھرتے اور چھلکتے رہتے ہیں اور پھر بھرتے اور پھر چھلکتے رہتے ہیں لیکن یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔اس جلسہ سالانہ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جو نظارے دیکھنے میں آئے ان میں سے ایک کا میں خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔مستورات کی تقریر میں میں نے ” پر دے“ کو موضوع کے طور پر اختیار کیا کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ دنیا میں اکثر جگہ سے پردہ اس طرح غائب ہو رہا ہے کہ گویا اس کا وجود ہی