خطبات وقف جدید — Page 215
215 حضرت خلیفہ المسح الثالث اقتباس از خطاب جلسه سالانه فرموده 27 / دسمبر 1977 وقف جدید کے کام میں سب سے بڑی روک خود جماعتوں کی طرف سے واقع ہوتی ہے وہ معلمین کا مطالبہ تو کرتی ہیں لیکن معلمین تیار کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتیں اور نہ ہی احباب حسب ضرورت بطور معلم کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اب اگر دوسو معلمین کی ضرورت ہو اور آپ صرف سو معلم دیں تو باقی کہاں سے آئیں گے؟ پس جماعتوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایسے لوگ پیش کرنے چاہئیں جو بطور معلم خدمات بجالا سکیں اس کے بغیر وقف جدید کے کام میں وسعت پیدا نہیں ہو سکتی۔پھر وقف جدید کے لئے ایک خاص قسم کا لٹریچر چاہئے ، گہرے اور ادق مسائل کی معلمین کو ضرورت نہیں۔ان کے لئے تو ایسی کتابیں تیار ہونی چاہئیں جن میں موٹے موٹے مسائل کو عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہو۔پھر معلمین کے لئے ایک عام فہم انداز میں لکھی ہوئی تبلیغی پاکٹ بک بھی ہونی چاہئے جو ضروری حوالہ جات پر مشتمل ہو۔میں نے 2/جنوری1976 ء کو خطبہ جمعہ میں رضا کار معلمین سے متعلق ایک تحریک پیش کی تھی اس کی طرف جماعت پوری توجہ نہیں کر رہی۔جماعت نے ابھی اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔میں نے تحریک یہ پیش کی تھی کہ جماعتیں مرکز میں رضا کار معلم بھجوائیں۔مرکز ان کے لئے دوماہ کی کلاس جاری کر کے تعلیم و تربیت کا انتظام کرے گا اور انھیں اس قابل بنائے گا کہ وہ رضا کارانہ طور پر بطور معلم خدمت بجا لا سکیں۔انھیں مختلف مسائل کے چیدہ چیدہ دلائل سکھا دئے جائیں گے اور ان میں اتنی استعداد پیدا کر دی جائے گی کہ وہ با آسانی کام کر سکیں گے۔رضا کار معلمین کے منصوبہ کا ذکر قرآن مجید میں بھی آتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً طَ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبہ: 122 ) یعنی مومنوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ سب کے سب اکٹھے ہو کر تعلیم دین کے لئے ) نکل پڑیں پس کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ دین سیکھتے اور اپنی قوم کو واپس لوٹ کر (بے دینی سے ) ہوشیار کرتے تا کہ وہ گمراہی سے ڈرنے لگیں۔اس آیت میں اس امر کا ہی ذکر ہے کہ بعض لوگوں کو رضا کارانہ طور پر آگے آنا چاہئے اور مرکز میں رہ کر دین سیکھنا چاہئے اور پھر اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا کر لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا چاہئے۔اب