خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 183 of 682

خطبات وقف جدید — Page 183

183 حضرت خلیفة المسح الثالث ہم نے پچھلے جلسہ پر ( دو سال قبل) کہا تھا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا اس مقام پر ہمیں کھڑے نہ رہنے دینا ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔اپنی طرف سے کچھ اور دے تا کہ ہمارا قدم اگلے جلسہ کے موقع پر آگے ہی آگے بڑھا ہوا ہر ایک کو نظر آئے یعنی آپ کو بھی نظر آئے اور جو آپ کے کام کے لحاظ سے دوست اور ساتھی ہیں جو جلسہ پر آئے ہوئے تھے اور جو ابھی جماعت میں شامل نہیں ہوئے ان کو بھی نظر آئے کہ جماعت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل۔ہے۔جیسا کہ میں نے جلسہ میں بھی بتایا تھا کہ تحریک جدید اس سال نامساعد حالات کے باوجود آگے نکلی۔اگلے سال انشاء اللہ پھر آگے نکلے گی۔پس یہی وقف جدید کا حال ہے۔یہ ایک طریق ہے کہ نئے سال کا اعلان باضابطہ بھی کر دیا جاتا ہے۔پس میں نے اعلان کر دیا میں آپ کو یہ نہیں کہتا کہ آپ بیس ہزار اس سال کی نسبت زیادہ دیں۔میں نے یہ اعلان کیا ہے کہ آپ کی دعا ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ والی پہلے موقعوں پر جو قبول ہوئی آج بھی آپ کی دعا ايَّاكَ نَسْتَعِینُ خدا تعالیٰ کے فضل سے قبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ آپ کی طاقتوں اور استعدادوں اور قوتوں میں اضافہ کرے گا اور اس اضافے کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ آپ کی ساری زندگی سے بڑھ کر ہوگی۔اب نصرت جہاں ریز روفنڈ میں جو ہم نے کام کئے ہر وقت جائزہ تو لیتے۔کام کر رہے تھے۔دعائیں کر رہے تھے۔جب نوٹ لئے تو پتہ چلا کہ خدا تعالیٰ کے فضل نے اتنی برکتیں نازل کر دیں۔پس گنا ہمارا کام نہں یہ بھی یادرکھیں ( اپنی اپنی طبیعت ہے میں اس سے منع نہیں کرتا نہ روکتا ہوں) لیکن میری اپنی طبیعت یہ ہے کہ تسبیح کے دانوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور خیال آتا ہے کہ کیا میں گن کے دوں گا اور خدا سے یہ کہوں گا کہ تو مجھے محدود اور گن کے دے؟ پس ہماری کوشش محدود ہے لیکن ہم اپنی یاد میں اسکو غیر محدود بنادیتے ہیں۔اگر تسبیح کے دانوں کو گنیں گے تو وہ محدود ہوں گے اور آپ کے حافظہ میں بھی وہ محدود تعداد ہوگی۔آپ نے کہا سو دفعہ ہم نے پڑھا لیکن ایک شخص کہتا ہے میں گن کر نہیں دوں گا میں تو اپنے عاجزانہ مقام سے بغیر گنے کے تجھے دوں گا اور میرا حافظہ کہے گا کہ وہ غیر محدود اور غیر معین ہے۔مثلاً میں ستر دفعہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم کہوں یا سات سو دفعہ کہوں یا سات ہزار دفعہ گن کر کہوں مجھے پتہ نہیں ہونا چاہیے۔یعنی اپنی طبیعت بتارہا ہوں کیونکہ میری خواہش یہ ہے کہ میں خدا سے گنتی کر کے کوئی سودا نہ کروں بلکہ حافظے کے لحاظ سے انسان کی ہر کوشش محدود ہے لیکن اس کا حافظہ بھی محدود ہے میں غیر محدود اس کے حضور پیش کر دوں اور اس سے کہوں کہ تو اپنے فضل کے لحاظ سے اور اپنے مقام کی الوہیت کے لحاظ اور اللہ کے مقام کے لحاظ سے مجھے غیر محدود دے۔پس ہم گنا نہیں کرتے میں تو بالکل نہیں گنتا اور بغیر گننے کے جماعت آگے بڑھ