خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 184 of 682

خطبات وقف جدید — Page 184

184 حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رہی ہے جیسے کہ نوٹ تیار ہوتے ہیں مختلف موقع پر کچھ کہنا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی کچھ نعمتیں شمار ہو جاتی ہیں اور ایک حد تک ہمارے سامنے آجاتی ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کے فضلوں کو شمار نہیں کر سکتے بے حد و بے حساب اس کی نعمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہیں۔ایک مخلوق ہونے کے لحاظ سے بھی جس میں پتھر بھی شامل ہیں ایک جاندار ہونے کے لحاظ سے جس میں بکرا اور اونٹ بھی شامل ہیں اور ایک انسان ہونے کی حیثیت میں بھی جس پر پہلے رحیمیت کے جلوے اور پھر مالکیت کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ میری نعمتوں کو تم گن نہیں سکتے اور یہ بڑے بڑے حساب دان اور سائنس دان اور سائنس میں بہت آگے نکلے ہوئے اور کمپیوٹر بنانے والے ان کو ہم چیلنج کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو سارے انسانوں پر نہیں کسی ایک انسان پر جو ہوئی ہے ان کو گن کے دکھاؤ گن ہی نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ کو اس طرح نہیں پیش کیا آپ نے کہا ساری دنیا قیامت تک رائی کے ایک دانہ کی صفات معلوم کرتی رہے اس کی صفات ختم نہیں ہونگی یعنی رائی کے ایک دانے کی ،سونف کے ایک دانے ، گندم کے ایک دانے ، چاول کے ایک دانے کے اندر خدا تعالیٰ کے جلووں نے جو صفات پیش کی ہیں وہ شمار میں نہیں آسکتیں۔ایک وقت میں سائنس دان کہتا ہے جو کچھ تھا ہم نے پا لیا۔اگلی نسل میں ایک اور سائنس دان پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے اس نے غلط کہا تھا اس مخلوق کی اور بہت سی صفات ہم نے دریافت کی ہیں۔یہ دونوں طرح ہے ایک تو زمانہ ماضی کے جلووں کی تاثیریں دوسرے یہ کہ تازہ بہ تازہ نو بہ نو جلوے اللہ تعالیٰ کی صفات کے ہر چیز پر ظاہر ہورہے ہیں اور ان کی صفات بڑھ رہی ہیں۔بہر حال خدا کا بڑا فضل ہے اور ان کی وجہ سے اِيَّاكَ نَعْبُدُ ( یعنی یہ حصہ ) کہ تو نے ہمیں دیا ہے جو ہم نے تیرے حضور پیش کر دیا اپنی بساط کے مطابق الْحَمدُ لِلهِ "گھر سے تو کچھ نہ لائے“ جو ہم نے دیاوہ بھی ہمارا نہیں ہے وہ بھی تیرا ہے اور وہ ہے بے شمار۔ہم محدود ہونے کے لحاظ سے اور کمزور ہونے کے لحاظ سے اسے کچھ دیتے ہیں لیکن یہ ہمیں احساس ہے کہ اَلحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حمد کے ہم مستحق نہیں، حمد کا اے ہمارے رب تو ہی مستحق ہے اور صرف تو ہی مستحق ہے۔پس دعائیں کرو اور جو کچھ خدا نے دیا اس پر بس نہ کرو اور تسلی نہ پکڑو بلکہ اپنے رب کریم سے کہو کہ اے ہمارے رب ہمیں اور دے تا کہ تیری نعمتوں کو ہم پہلے سے زیادہ حاصل کر سکیں ہمیں اور دے ہر قدم پر۔نمازوں کے درمیان ہمیں اور دے۔ہر جمعہ جمعہ کے درمیان ہمیں اور دے۔سال سال کے بعد ہمیں اور دے یہاں تک کہ ہم اس امتحان کی دنیا سے نکل کر اس دنیا میں داخل ہو جائیں جہاں تیری حمد کے جلوے تو ہمارے دلوں میں موجود ہونگے لیکن وہ دار الامتحان نہیں ہو گا۔امتحان کا تصور یہ ہے کہ پاس ہونے کا