خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 182 of 682

خطبات وقف جدید — Page 182

182 حضرت خلیفه لمسیح الثالث رہے تھے۔کچھ ہمارے کارکن جو اپنی اپنی جگہوں پر کام کر رہے تھے وہاں لاؤڈ سپیکر کی آواز چونکہ چلی گئی اسلئے وہ بھی جلسہ میں شامل ہوئے ویسے بھی وہ شامل ہیں کیونکہ وہ خدمت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور جو ہماری مستورات اور بہنیں اس جلسہ میں شامل ہوئیں انکا تو شمار نہیں ہو سکا اور نہ ہوسکتا تھا کیونکہ اتنی تھیں کہ گفتی کیلئے جو ماحول پیدا ہونا چاہیے وہ نہیں ہوسکا۔ہمارا اندازہ ہے کہ چالیس ہزار کے قریب ہوں گی کیونکہ ہر عارضی حد جو جلسہ گاہ بناتی ہے اس کو پھلانگ کر سینکڑوں گز دور تک پہنچی ہوئی تھیں اور پہاڑیوں کے اوپر چڑھی ہوئی تھیں اور ارد گرد کے کھیتوں کے اندر پھر رہی تھیں اور الامہ آ گیا کہ اپنی مستورات کو سنبھال لو ہماری کھیتیوں میں پھر رہی ہیں اور ہماری کھیتیاں خراب کر رہی ہیں لیکن ہمارے ہمسایہ شریف کسانوں سے شریفانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے ان سے تو کچھ نہیں کہا لیکن ہمارے تک یہ پیغام پہنچا دیا تو اندازہ ہے کہ چالیس ہزار خواتین اور اسی ہزار مرد یقینی طور پر جلسہ میں شامل ہوئے۔اس سے زائد ہونگے کم نہیں۔یعنی ایک لاکھ بیس ہزار کا مجمع جلسہ گاہ میں تھا۔یہ پہلے جلسہ کی نسبت بہت زیادہ ہے اور ہمارے دل خدا تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ اَلحَمدُ لِلَّهِ کے مقابل إِيَّاكَ نَعْبُدُ کو رکھا گیا ہے۔اسی واسطے میں نے اس طرح اس حصہ سورۃ کو پڑھا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ۔جو کچھ ہمیں اس کے عبد بنے میں ملا۔اس پر ہمارے دل اس کی حمد سے معمور ہیں اور ہم اس کے ممنون ہیں اور ہماری زبانیں اس کی حمد کرتے ہوئے تھکتی نہیں ہمارے گلے خشک ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے دل کی دھڑکنوں اور روح کی امواج خدا تعالیٰ کی حمد کر رہی ہوتی ہیں اس اتنے بڑے اجتماع کی برکتیں ہمارے دوسرے کاموں پر بھی اثر انداز ہونگی اور ان کا ایک عکس پڑے گا ، روشنی پڑے گی۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت وقف جدید کے کام میں بھی جس کی ابتدا یکم جنوری اور جس کی انتہا 31 دسمبر کو ہوتی ہے سال رواں کے مقابلہ میں آئندہ سال بہت زیادہ حصہ لے گی۔اپنی بساط کے مطابق بہت زیادہ کہنے کے بعد میں رُک گیا تھا کہ جماعت تو پہلے ہی ہر کام میں بہت زیادہ حصہ لے رہی ہے اس واسطے میرا دماغ کھڑا ہو گیا کہ کہیں ضرورت سے زیادہ تو مطالبہ نہیں کر رہا بہر حال خدا تعالیٰ نے زیادہ دیا ہے۔آپ کو پتہ بھی نہیں لگے گا اور نتیجہ زیادہ نکل آئے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اور نتیجہ اس لئے زیادہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ نے إِيَّاكَ نَسْتَعِینُ کی ہماری آج کی دعا کو قبول کیا اس جلسہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ جس نئے نئے رنگ میں کہنے کے ہم قابل ہوئے ہیں ہم اپنی طرف سے اپنے زور سے تو اس قابل نہیں ہوئے پچھلے جلسہ کے مقابلہ میں جو زیادتی ہے وہ ہماری کسی خوبی کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔