خطبات وقف جدید — Page 145
145 حضرت خلیفہ امسح الثالث ہمیں اپنے رب کی طرف سے ملنا تھا وہ مل چکا۔اگر ہم خدا کے اس عطیہ کی قدر نہ کریں تو ہم بڑے ہی ظالم ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر وار دکرنے والے ہوں گے۔پس اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے خود بھی قرآن پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی قرآن پڑھائیں۔خود بھی قرآن کریم کے معنی سیکھیں اور آئندہ نسل کو بھی قرآن کریم کے معنی سکھائیں۔خود بھی قرآن کریم کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کریں اور بہترین تفسیر اس وقت ہمارے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی تفسیر ہے تو خود بھی قرآن شریف کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کریں اور اپنے بچوں کے دل میں بھی یہ محبت پیدا کریں کہ وہ قرآن کے علوم اور اس کے معارف اور اس کے دلائل اور اس کی برکات سے آگاہ ہوں اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ احمدی مستورات پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ چھوٹے بچوں کی نگرانی کا کام ان کے ذمہ ہے۔پھر وہ ماں جو قرآن کریم پڑھنا جانتی ہے مگر اپنے بچے کو پڑھاتی نہیں وہ ایک ظالم ماں ہے اور ہر وہ ماں جو قرآن کریم کے معنی جانتی ہے مگر اپنے بچوں کو وہ معانی نہیں سکھاتی وہ قرآن کریم کی قدر نہیں کر رہی۔قرآن کی قدر کو پہچانتی نہیں اور ان روحانی نعمتوں اور برکات سے خود کو بھی محروم کر رہی ہے اور اپنی نسل کو بھی آگے محروم کر رہی ہے اور ہر وہ ماں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ا قرآن کریم کے اسرار روحانی سمجھنے کی توفیق عطاء کی ہے۔اگر وہ ان اسرار روحانی کو اپنی نسل میں آگے نہیں چلاتی اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والی کوئی ماں نہیں ہے۔دوسری اور تیسری چیز جس کی طرف آج میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ تحریک جدید کا دفتر سوم اور وقف جدید میں جو بچوں میں تحریک کی گئی تھی یہ دو باتیں ہیں۔دفتر سوم کی طرف بھی جماعت نے ابھی پوری توجہ نہیں دی۔ہزاروں احمدی ایسے ہیں جو تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہے اور ان میں سے بڑی بھاری اکثریت ہماری احمدی مستورات کی ہے۔جیسا کہ دفتر کی طرف سے مجھے بتایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جماعت میں ہزاروں احمدی بہنیں ایسی ہیں اور ہزاروں احمدی بچے اور نوجوان ایسے ہیں اور ہزاروں احمدی بالغ مرد ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں اور اس کی برکات سے وہ واقف ہی نہیں، اسلام کی ضرورتوں۔سے وہ آگاہ ہی نہیں۔ان ضرورتوں کے پیش نظر ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ اس سے غافل ہیں۔پس تحریک جدید کے دفتر سوم کی طرف خصوصاً احمدی مستورات اور عموماً وہ تمام احمدی مرد اور بچے اور نوجوان جنہوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی وہ اس طرف متوجہ ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے