خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 144 of 682

خطبات وقف جدید — Page 144

144 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطبه جمعه فرموده 30 جون 1967 ء بیت المبارک ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وہ سکیم جس کی طرف میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا تھا اور جو جماعت میں جاری کرنا چاہتا ہوں وہ قریباً ساٹھ ستر حصوں پر منقسم ہے۔اگر میں اس مضمون کو آج کے خطبہ میں شروع کروں تو پہلے حصے اور بعد کے حصوں میں کئی ہفتوں کا فرق پڑ جائے گا اس لئے میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ یورپ کے سفر سے واپسی پر جماعت کے سامنے میں اپنی سکیم کو رکھوں گا۔وبالله التوفیق۔اس وقت میں بعض دیگر نہایت ضروری امور کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہیں۔میں نے جماعت کی توجہ اس طرف پھیری تھی اور تلقین کی تھی کہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے کی طرف بہت توجہ کریں جماعت کو یہ یا درکھنا چاہیے کہ احمدیت کی ترقی اور اسلام کا غلبہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم خود کو بھی اور اپنے ماحول کو بھی قرآن کریم کے انوار سے منور کریں اور منور رکھیں۔اگر ہم ایسا کریں تو ایک طرف ہم اپنے نفسوں پر اور اپنی نسلوں پر ظلم کر رہے ہونگے اور دوسری طرف ہم عملاً اس بات میں شیطان کے محمد بن رہے ہوں گے کہ اسلام کے غلبہ میں التو اپڑ جائے۔پس یہ ایک نہایت ہی اہم فریضہ ہے جسے ہم میں سے ہر ایک نے ادا کرنا ہے۔باہر سے جو اطلاعات آرہی ہیں ان سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ بعض جماعتیں اور بہت سی جماعتوں کے بعض افراد قرآن کریم کی طرف متوجہ ہور ہے ہیں اور قرآن کریم کی عملاً وہ قدر کر رہے ہیں جو قرآن کریم کا حق ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بعض جماعتوں کے متعلق یہ رپورٹ ہے کہ وہ اس اہم فریضہ کی طرف متوجہ نہیں ہور ہے اور قریباً ہر جماعت کے بعض افراد کے متعلق یہ اطلاع ہے کہ وہ اس فریضہ کی اہمیت کو ابھی تک سمجھ نہیں رہے۔اس لئے میں آج مختصر الفاظ میں پھر اپنے بھائیوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اس بات کی طرف کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں، یہ کوئی معمولی کام نہیں ، یہ کوئی معمولی فریضہ نہیں جومیں نے آپ کے سامنے رکھا ہے اور جس کی طرف آپ کو میں نے توجہ دلائی ہے بلکہ فرائض میں سے ایک بنیادی فریضہ ہے اگر ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی شریعت آخری شریعت ہے ، ایک کامل اور مکمل شریعت ہے جس کے بعد کسی دوسری شریعت کی ضرورت ہمارے لئے باقی نہیں رہتی تو پھر ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔جو