خطبات وقف جدید — Page 131
131 حضرت خلیفه لمسیح الثالث ہیں اور اس طرح ہمیں اس راستے پر لگایا جاتا ہے کہ بچوں کے سامنے ہمیشہ نیکی کی اور ہمیشہ عدل کی اور ہمیشہ احسان کی اور ہمیشہ جذ بہ ایتَاءِ ذِی القربی کے پیدا کرنے والی باتیں کیا کرو اور انھیں تلقین کیا کرو کہ علمی لحاظ سے بھی اور ذہنی لحاظ سے بھی وہ ایک سچے مسلمان کی سی زندگی گزارنے لگیں۔اعمال میں جہاں تک نماز کا تعلق ہے (جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک خطبہ میں کہا تھا ) نبی کریم نے فرمایا ہے کہ دس سال کی عمر میں بچے پر نماز و نہ کیا کہ وہ اپنے بچے کو اپنے سے جدا کر کے کسی صلى الله ایسے بڑے شہر میں بھجوائیں جہاں کا لج موجود ہے۔تو اس دنیا میں بعض دفعہ تو ہم غیر معقول رویہ اختیار کرک ے بھی اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کی جدائی ہم پر بہت شاق گذرتی ہے تو وہ دنیا جس کے عذاب کے وتو اسے نماز کی طرف مائل کرو اور متوجہ کرو اور اگر وہ لڑکا ہے تو اسے اپنے ساتھ مسجد میں لے جانا شروع کر دو اور مسجد کے آداب بھی سکھاؤ۔اس طرح عبادت کے عملی کام جو ہیں ان میں حصہ لینے کی طرف اسے متوجہ کرو اور اس رنگ میں ان کی تربیت کرو کہ عملی روحانی کاموں کے فرض ہوتے وقت اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے وہ پورے طور پر تیار ہوں۔نماز کے بعد دوسرا بڑا کام جو ایک مسلمان پر بطور فرض کے عائد ہوتا ہے وہ مال کی قربانی ہے۔نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اتنی شاندار قربانیاں دیں کہ اگر وہ ثقہ راویوں سے بیان نہ ہوتیں تو شاید ہماری عقلیں ان کی صحت کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے پاس چالیس ہزار اشرفیاں جمع تھیں آجکل تو اشرفی ملتی ہی نہیں میرے خیال میں جو دوست یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے ایک فیصدی نے بھی سونے کی اشرفی نہ دیکھی ہوگی اس وقت قوت خرید کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق ایک اشرفی کی قیمت سوسوا سو ہے۔کیونکہ سوسواسو میں ایک اشرفی ملتی ہے تو چالیس ہزار اشرفی تقریبا پچاس لاکھ روپیہ بنتا ہے۔جب وہ مسلمان ہوئے تو انھوں نے اپنے دل میں یہ عہد کیا کہ یہ ساری رقم میں اسلام کے لئے خرچ کروں گا چنانچہ جو کچھ انھوں نے جوڑا ہوا تھا اور ریز رو کے طور پر رکھا ہوا تھا ( تجارت میں جوان کا مال لگا ہوا تھا وہ اس کے علاوہ تھا ) وہ اسلام پر خرچ کرتے رہے اور جب ہجرت کا وقت آیا تو چالیس ہزار اشرفیوں میں سے صرف پانچ سو اشرفی ان کے پاس باقی تھی۔انتالیس ہزار پانچ سو اشرفی وہ خرچ کر چکے تھے۔یہ پانچ سو اشرفیاں بھی انھوں نے اپنے گھر والوں کے لئے نہیں چھوڑیں بلکہ ہجرت کے وقت وہ بھی ساتھ اٹھا لیں تا کہ دین کی راہ میں ہی خرچ ہوں۔تو انھوں نے بڑی مالی قربانیاں دی ہیں۔دوست یہ نہ سمجھیں کہ ہم وصیت میں 1/10 دے کر یا بعض دوسرے چندوں کو ملا لیا جائے تو