خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 132 of 682

خطبات وقف جدید — Page 132

132 حضرت خلیفة المسیح الثالث 1/8 یا1/7 دے کر ایسی قربانی دے رہے ہیں کہ گویا ہم صحابہ رضی اللہ عنہم سے آگے نکل گئے یا ان کے برابر کھڑے ہوگئے ہیں۔کیونکہ صحابہ میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے تھے جو بہر حال 1/5 سے زیادہ قربانی دے رہے تھے مثلاً انصار کو ہی دیکھیں۔انھوں نے آدھے آدھے مال مہاجرین کو پیش کر دئے تھے یہ علیحدہ بات ہے کہ مہاجرین میں سے بہتوں نے نہیں لئے۔جنھوں نے لئے بھی قرض کے طور پر لئے لیکن انصار کی طرف سے پیشکش ہوگئی تھی کہ تم سب کچھ چھوڑ کر آئے ہو آؤ یہ مال بانٹ لیں اور آدھا آدھا کر لیں۔اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین کو عقل دی تھی وہ تجارت کے میدان میں بڑا کچھ کماتے تھے۔پھر اس نے انھیں ایمان بھی دیا تھا اس لئے وہ دین کی راہ میں خرچ بھی بڑا کرتے تھے۔اس حد تک کہ میں نے بتایا ہے کہ اگر ان روایات کے راوی ثقہ نہ ہوں تو ہم شاید ان کو محض قصہ سمجھیں لیکن تاریخ اس کثرت سے ان باتوں کی تائید کر رہی ہے کہ ہماری عقل انھیں جھٹلا نہیں سکتی۔تو جہاں تک اموال کی قربانی کا تعلق ہے صحابہ نبی اکرم نے بے مثال قربانیاں دیں ہیں اور جہاں تک مالی قربانیوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بھی تو فیق دی ہے کہ اس لامذہبیت اور دہریت کے زمانہ میں اپنے اموال کو بے دریغ خرچ کرے۔اور ایک حصہ جماعت کا اور بڑا حصہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے اپنے وقت میں ایسی روحانی تربیت حاصل کر چکا تھا کہ ان کی جانی اور مالی قربانیاں صحابہ نبی اکرمﷺ سے اتنی مشابہ ہوگئیں تھیں کہ ان کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنھم کے علاوہ کسی اور گروہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔بعد کی جو نسلیں ہیں ان میں بھی بڑی حد تک خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ روح قائم ہے لیکن ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ نئی نسلوں کو بھی قربانیوں کی ان راہوں پر چلنے کی عادت ڈالیں۔اسی لئے میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وقف جدید کا مالی بوجھ اگر ہمارے بچے اور بچیاں جن کی عمر پندرہ سال سے کم ہے اٹھا لیں تو جماعت کے ارفع مقام کا مظاہرہ بھی ہوگا کہ جماعت کے بچے بھی اس قسم کی قربانیاں دیتے ہیں کہ اس پوری تحریک ( وقف جدید ) کا مالی بوجھ انھوں نے اٹھالیا ہے اور خود ان کے لئے بھی بڑے ثواب کا موجب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو کام انھوں نے آئندہ کرنے ہیں۔اس کے لئے تربیت کا موقع بھی مل جائے گا۔اس کی طرف جماعت نے اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینی چاہئے تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے بچے جن کی عمر ایک دن سے پندرہ سال کے درمیان ہے وہ تین مختلف تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔سات سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کا تعلق اطفال الاحمد یہ خدام الاحمدیہ سے ہے اور سات سے پندرہ سال کی بچیوں کا تعلق ناصرات الاحمدیہ لجنہ اماءاللہ سے ہے اورسات سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کا تعلق نظام جماعت سے ہے۔تو بچوں کی یہ نھی منی فوج تین حصوں میں