خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 130 of 682

خطبات وقف جدید — Page 130

130 حضرت خلیفة المسح الثالث وہاں اپنے اہل کو اور ان لوگوں کو بھی جو تمہارے رشتہ دار ہیں (بیوی بچے ہیں ) خدا تعالیٰ کے قہر کی آگ سے بچاؤ۔دوسری جگہ فرمایاقُلْ إِنَّ الْخَسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (الزمر:16 حقیقی طور پر گھاٹا پانے والے وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ اور ان کے اہل گھانا پانے والے قرار دئے جائیں۔دیکھ مائیں اور بعض دفعہ باپ اور دوسرے رشتہ دار بھی چند دنوں یا چند مہینوں یا چند سالوں کی جدائی اپنے بچوں سے برداشت نہیں کر سکتے ، بہت سے بچے غیر ملکوں کی اعلیٰ تعلیم سے اس لئے محروم ہو جاتے ہیں کہ ان کی مائیں یا دوسرے عزیز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ چند سال کے لئے وہ اپنے اس عزیز سے جدا ہوں۔بہت سے بچے اس لئے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں کہ جہاں وہ پیدا ہوئے اور جہاں وہ پہلے اور بڑھے اور جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی وہاں کوئی کالج نہیں تھا اور ماں باپ نے پسند نہ کیا کہ وہ اپنے بچے کو اپنے سے جدا کر کے کسی ایسے بڑے شہر میں بھجوائیں جہاں کالج موجود ہے۔تو اس دنیا میں بعض دفعہ تو ہم غیر معقول رویہ اختیار کر کے بھی اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کی جدائی ہم پر بہت شاق گزرتی ہے تو وہ دنیا جس کے عذاب کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اتنا لمبا ہے کہ اس پر ہمیشہ رہنے والے عذاب کا فقرہ چسپاں ہوسکتا ہے۔اس میں ہم کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ ہمارے بچے ہمارے اہل اور ہمارے دوسرے رشتہ دار ہم سے جدا ہوں۔اگر چہ پورے طور پر تو یہ درست نہیں بلکہ قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہے کہ جہنم کا عذاب ہمیشہ ہمیش تک چلتا چلا جائے گا لیکن اس کے زمانہ کی لمبائی اور وسعت کو بیان کرنے کے لئے قرآن کریم خــلـدین کا لفظ استعمال کرتا ہے۔تو ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ایک معنی کے لحاظ سے ہمارے بچے اُس دنیا میں ابدالآباد تک ہم سے جدا ر ہیں جبکہ ہم یہاں چند گھڑیوں یا چند دنوں یا چند مہینوں یا چند سالوں کی جدائی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل گھاٹا پانے والے تو وہ ہیں جو اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ اپنے خاندان کو جس طرح جسمانی طور پر یہاں اکٹھا کئے ہوئے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان میں انتشار اور تفرقہ پیدا ہو اور وہ بگڑ جائیں اسی طرح ان کا خاندان دوسری دنیا (اخروی زندگی میں بھی منتشر نہ ہو جائے۔چونکہ وہ ایسی کوشش نہیں کرتے اس لئے حقیقی معنے میں یہی لوگ ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ گھانا پانے والے ہیں۔اسی لئے اسلام نے مختلف پہلوؤں سے اس بات کی تلقین کی ہے کہ اپنے بچوں کی پہلے دن سے ہی تربیت شروع کر دی جائے۔دراصل پیدائش سے پہلے بھی جب بچہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے بعض لحاظ سے اور بعض طریقوں سے اس کی تربیت کی جاتی ہے۔بچے کی پیدائش پر نیک کلمات اس کے دائیں کان میں بھی اور اس کے بائیں کان میں بھی کہے جاتے