خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 129 of 682

خطبات وقف جدید — Page 129

129 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطبه جمعه فرموده 4 / نومبر 1966 ء بیت المبارک، ربوه) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس میں شک نہیں کہ دینی معاملات میں سب سے پہلا حق انسان پر اس کے اپنے نفس کا ہی ہے اور ہرنفس انسانی کو ہمیشہ اس طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ وہ ایسے اعمال بجالا تا ر ہے کہ ان کی وجہ سے اس کا رب راضی ہو جائے اور وہ اپنے اللہ کی خوشنودی حاصل کر لے۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائده : 106) کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ سمجھے جاؤ تو تمہیں دوسروں کا گمراہ ہو جانا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا یعنی اگر باوجود اپنی دلی تڑپ اور اپنی انتہائی کوشش اور جدو جہد کے وہ لوگ جنھیں تم ہدایت کی طرف بلا ؤ اور اس بات کی تلقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قرآن کریم کے جوئے کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دیں پھر بھی وہ ایسانہ کریں اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیں تو ان کا ایسا کرنا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اہل وعیال کو نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں اور ہمیشہ اس طرف متوجہ ہوں کہ جس طرح ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم پر اللہ تعالی کے فضل ہوتے رہیں اور وہ ہم سے خوش ہو جائے اسی طرح وہ لوگ بھی جو ہمارے اہل میں شمار ہوتے ہیں ان کے متعلق بھی ہماری یہ خواہش ہونی چاہیئے کہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم نازل ہو اور اس زندگی میں (جس کے متعلق ہمیں بہت کم علم دیا گیا ہے اور جہاں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک لحظہ کی ناراضگی ایسی ہے کہ اس دنیا کی ہزاروں زندگیوں کی خوشیاں اس ناراضگی سے بچنے کے لئے قربان کی جاسکتی ہیں ) وہ لوگ ( بیوی بچے اور دوسرے رشتہ دار ) جو یہاں ہمارے اہل کہلاتے ہیں وہاں بھی ہمارے ساتھ ہی رہیں اور خاندان روحانی طور پر بکھر نہ جائے اور منتشر نہ ہونے پائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ مَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 7) کہ اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہو جنھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہا ہے یا درکھو کہ صرف اپنے نفس کو روحانی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرنے کی ہی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہوتی بلکہ تم پر یہ بھی فرض کیا گیا ہے کہ جہاں تم اپنے نفسوں کو خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے قہر اور اس کے غضب کی آگ سے بچاؤ صلى الله