خطبات وقف جدید — Page 127
127 حضرت خلیفة المسیح الثالث چاہئے۔مومن پر اللہ تعالیٰ نے یہ بڑا فضل کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی زندگی کا ہرلمحہ خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزار سکتا ہے کیونکہ جب وہ سونے لگتا ہے تو اس وقت بھی آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق وہ بعض دعائیں مانگ لیتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی نیند کے لمحات بھی ایک طرح عبادت ہی میں گذرتے ہیں۔پھر بیدارزندگی میں ہرلحہ وہ کچھ نہ کچھ کر رہا ہوتا ہے اور اگر اس کچھ نہ کچھ کرنے کے وقت وہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتا رہے تو اس کی بیدار زندگی کا ہر لحہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرے گا۔اس کے بعد ہم اپنے رب پر یہ توقع اور امید اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال اور ہماری دعاؤں کے ان ہزاروں رخنوں کو اپنے فضل سے دور کر دے گا جو ہماری کوشش اور دعا کے باوجو د رہ جاتے ہیں۔شیطان کے ہزاروں وساوس ہیں جو ہمارے دل میں پیدا ہوتے ہیں بعض کو ہم پہچان لیتے ہیں اور دعاؤں کے ذریعہ انھیں اپنے دل سے نکال لیتے ہیں اور بعض ہمارے علم میں ہی نہیں آتے۔شیطان خفیہ طور پر ہمارے دل میں وسوسہ پیدا کرتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم اس حالت میں میرے پاس آئے ہو کہ نہ تو تمہاری دعائیں کامل اور مکمل اور رخنہ کے بغیر ہیں اور نہ تمہارے اعمال کمزوریوں اور فساد کے بغیر ہیں لیکن چونکہ تم مجھ پر یقین رکھتے رہے ہو اس لئے میں اس یقین کے صدقے اور اپنی قوتوں کے طفیل اور اپنی اس رحمت کی وجہ سے جس کے عام ہونے کا میں نے قرآنِ کریم میں اعلان کیا ہوا ہے، تمہاری دعاؤں کو سنتا ہوں میں اس زندگی میں بھی تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازتا رہوں گا اور تمہارا انجام بخیر کروں گا اور اُخروی زندگی میں بھی تمہیں اپنی رحمتوں نوازوں گا اور تم ابد الآباد تک میری رحمتوں اور رضا کو حاصل کرتے رہو گے۔غرض اپنے لئے بھی دعا کرنی ضروری ہے۔کام چھوٹا ہو یا بڑا ہمیں اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے دعا میں اپنا وقت گذارنا چاہئے۔اس پر نہ کوئی پیسہ خرچ آتا ہے اور نہ کوئی تکلیف تمہیں اٹھانی پڑتی ہے نہ کوئی صعوبت برداشت کرنی پڑتی ہے مفت کا سودا ہے۔آسان راہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے کھولی ہے۔اگر ہم اس آسان راہ سے بھی فائدہ نہ اٹھائیں تو ہمارے جیسا بد بخت کوئی نہیں ہو گا۔پھر اپنوں کے متعلق مثلاً اپنے بچے ہیں ، اپنے خاوند ہیں، اپنے باپ دادا اور دوسرے بزرگ رشتہ دار ہیں، اپنے ہمسائے ہیں، اپنے محلہ والے ہیں ، اپنے قصبہ اور شہر والے ہیں یا گاؤں والے ہیں ، اپنے ملک میں بسنے والے ہیں ، اپنی دنیا میں رہائش پذیر ہونے والے ہیں، اپنی دنیا سے تعلق قائم کر کے اس دنیا سے جدا ہو جانے والے یا اپنی دنیا سے آئندہ تعلق قائم کرنے والے ہیں۔آدم سے لے کر اب تک جو بنی آدم پیدا ہوئے اور جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے سب کو اپنی دعا کی سخاوت میں شامل کرو تا جب اللہ تعالیٰ سخاوت پر آوے تو وہ سب حدود کوتو ڑتا ہوا ہم سے رحمت کا سلوک کرنے والا ہو۔پس دعاؤں میں خود کو بھی اپنوں کو بھی اور جو ابھی پیدا نہیں ہوئے انھیں بھی یاد