خطبات وقف جدید — Page 126
126 حضرت خلیفتہ المسیح الثالث طرف منسوب ہونا کافی نہیں اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہم ایسے بن جائیں کہ وہ اپنے فضل سے ہم پر خوش ہو جائے اور اس زندگی میں وہ ہمیشہ ہم سے وہ کام کروائے جن کاموں سے وہ ہم سے راضی ہو۔ہم سے کبھی وہ افعال سرزدنہ ہوں ، وہ اعمال سرزد نہ ہوں جن کے نتیجہ میں وہ ہم سے ناراض ہو جائے۔اللہ تعالیٰ تمام دنیا کے مسلمانوں کو بھی قرآنِ کریم کے سمجھنے اور اس کے علوم اور اس کی معرفت کی باتیں اور اس کی ہدایتوں کی معرفت اور عرفان حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو بھی حقیقی معنی میں اور بچے طور پر مسلمان بنا دے۔وہ صرف خدا کی طرف منسوب ہونے والے ہوں، صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں ساری عزتوں کو دیکھنے والے ہوں بلکہ نہ صرف ان کو بلکہ دنیا میں جو عیسائی اور دہریہ، یہودی اور دوسرے مذاہب کے پیرو یا لا مذہب یا بد مذہب اقوام ہیں خدا کرے کہ ان کے سینے اور دل بھی قرآن اور اس کی تعلیم اور اس کے نور کے لئے کھل جائیں ، خدا کرے کہ ہم ہمیشہ اس بات کی تو فیق اس کے فضل سے پاتے رہیں کہ خدا کی توحید کے قیام اور اسلام کی اشاعت کے لئے ہم ہر اس قربانی کو بشاشت کے ساتھ کرنے کے لئے تیار ہوں جو قربانی خدا اور اس کا سلسلہ ہم سے چاہے اور اس کا مطالبہ کرے۔اللهُمَّ آمین۔ہمیں اپنے لئے بھی اور اپنوں کے لئے دعا کرنی چاہئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی ضرورت ہو تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تم اسے خود حاصل کر سکتے ہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔اگر کسی نے گھڑے میں سے پانی نکال کر پینا ہو تو آپ میں سے کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آنی چاہئے کہ گھڑا ہے ، گھڑے میں پانی بھی موجود ہے، میں ہوں صحت بھی ہے۔میں اٹھ کر اپنے طور پر خدا تعالیٰ کی توفیق کے بغیر اس گھڑے میں سے پانی نکال کر پی سکتی ہوں۔ایسی بات دماغ میں نہیں آسکتی اگر حقیقی عرفان دل میں ہو کیونکہ سینکڑوں ہزاروں لوگ اس دنیا سے اس وقت گذر گئے کہ جب انھوں نے گھڑے سے پانی پینے کے لئے قدم اٹھایا اور ابھی گھڑے تک پہنچے بھی نہیں تھے کہ موت کے فرشتے نے انھیں آدبوچا اور ان کا یہ خیال اور یہ وہم کہ ہم اپنے زور اور اپنی طاقت اور قوت سے اُٹھ کر اس گھڑے سے پانی پی سکتے ہیں غلط ثابت ہوا۔نبی اکرم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تمہاری جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی خدا تعالیٰ سے مانگو۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ تمہ پیسہ یا دو پیسہ کی چیز ہے۔تمہارے گھر پیسہ بھی ہے پھر گھر میں تمہارا خاوند یا تمہارا بھائی یا تمہارا بیٹا بھی ہے جو بازار جا سکتا ہے اور بازار میں تسمہ موجود ہے اور وہ خرید کر لا سکتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری جان نکال لے جیسا کہ وہ اس سے پہلے بہتوں کی جان نکال چکا ہے۔پس اپنے لئے بھی اور اپنے ہر کام کے لئے بھی چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہر وقت دعا کرتے رہنا