خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page vi of 682

خطبات وقف جدید — Page vi

خطبات وقف جدید IV جو تربیت کے لحاظ سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔“ خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1966ء) حضرت خلیفہ المسح الرابع اس تحریک کے آغاز سے تا انتخاب خلافت براہ راست اس سے وابستہ رہے۔آپ اس تحریک کی اغراض کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔حضور نے جب اس تحریک کا آغاز فرمایا تو اولین ممبران وقف جدید میں خاکسار کو بھی مقرر فرمایا۔ابتدائی نصیحتیں جو مجھے کیں ان میں ایک تو یہی دیہاتی تربیت کی طرف توجہ دینے کے متعلق ہدایت تھی اور دوسرے ہندوؤں میں خاص طور پر تبلیغ کی 66 تاکید کی گئی تھی۔“ (خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1985ء) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے موجودہ زمانے میں بڑھتی ہوئی ضروریات اور تقاضوں کے پیش نظر تحریک وقف جدید کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اب زمانہ ہے کہ ہر گاؤں میں، ہر قصبہ میں اور ہر شہر میں اور وہاں کی ہر مسجد میں ہمارا مربی اور معلم ہونا چاہئے۔اب اس کے لئے بہر حال جماعت کو مالی قربانیاں کرنی پڑیں گی تبھی ہم مہیا کر سکتے ہیں۔پھر جماعت کے افراد کو اپنی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اپنے بچوں کی قربانیاں کرنی پڑیں گی کہ ان کو اس کام کے لئے پیش کریں، وقف کریں۔اور یہ سب ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر بھی قائم ہوں۔ہم نے صرف آدمی نہیں بٹھانے بلکہ تقویٰ پر قائم آدمیوں کی ضرورت ہے۔آئندہ سالوں میں انشاء اللہ واقفین نو بھی میدان عمل میں آجائیں گے لیکن جو ان کی تعداد ہے وہ بھی یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔یہ کام وسیع طور پر ہمیں کرنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آدمیوں کی ضرورت بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ تقویٰ پر چلنے والے مربیان اور معلمین ہمیں مہیا فرما تار ہے۔“ خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2006ء) وقف جدید کے مقاصد کی تکمیل لئے جہاں واقف زندگی معلمین کی ضرورت ہے وہاں مالی قربانی کی بھی بے انتہا ضرورت ہے۔اور اس کے لئے وقف جدید کے تحت چندہ وقف جدید بالغان ، چندہ دفتر اطفال، قیام مراکز اور نگر پارکر جیسی مدات ہیں جن مخلصین بچے ، بوڑھے، جوان ، خواتین اپنی