خطبات وقف جدید — Page v
خطبات وقف جدید III وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا۔۔۔اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر ایک جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑیگا اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب میری بی نئی سکیم پر عمل کیا جائے اور تمام پنجاب میں بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دئے جائیں جو اس علاقے کے لوگوں کے اندر رہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں وہ انہیں پڑھا ئیں بھی اور رشد و اصلاح کا کام بھی کریں اور یہ جال اتنا وسیع طور پر پھیلایا جائے کہ کوئی مچھلی باہر نہ رہے۔۔۔پس جب تک ہم اس مہا جال کو نہ پھیلائیں گے اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔“ (خطبه جعه فرموده 3 جنوری 1958ء) اس تحریک کی اہمیت ، ضرورت اور کامیابی کے لئے جو جوش حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے قلب مطہر میں موجزن تھا اس کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں، کپڑے بیچنے ، پڑیں میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔اگر جماعت کا ایک فرد بھی میرا ساتھ نہ دے تو خدا تعالیٰ ان لوگوں کو الگ کر دے گا جو میرا ساتھ نہیں دے رہے اور میری مدد کے لئے فرشتے آسمان سے اتارے گا۔پس میں اتمام حجت کے لئے ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں تا کہ مالی امداد کی طرف بھی لوگوں کو توجہ ہوا اور وقف کی طرف بھی لوگوں کو توجہ ہو۔“ (پیغام حضرت خلیفہ مسیح الثانی الفضل 7 جنوری 1958 ء) پھر حضرت خلیفہ امسح الثالث نے وقف جدید کے سلسلہ میں جماعت کو ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔اس وقت حضرت مصلح موعود کو یہ نظر آ رہا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر جماعت میں کم از کم ایک معلم ضرور بیٹھا دیا جائے۔۔۔جماعت خود بھی احساس رکھتی ہے کہ جب تک اسے کوئی معلم نہ دیا جائے وہ ان کی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتی