خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 93
خطبات طاہر جلد ۹ 93 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء راہیں متعین کریں اور پھر انہیں حرکت دیں بلکہ یہ مہرے چلانے والی طاقتیں پس منظر میں رہتی ہیں اس پہلو سے عالم اسلام کی پشت پناہی اس رنگ میں نہیں ہو سکے گی جتنی روس کی امریکہ سے دوستی بڑھتی چلی جائے گی جتنا ان دونوں طاقتوں کا آپس میں ادغام ہوگا اور نئے اقتصادی نظام ابھریں گے اتنا ہی ان کا انحصار اسلامی طاقتوں پر کم ہوتا چلا جائے گا اور انکو دم دلاسہ دینے کی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوگی اس لئے ابھی سے آپ نے شاید سنا ہو کہ امریکہ سے بھی اور یورپ سے بھی کھلم کھلا ایسی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ یہ جو مسلمانوں نے جبر و تشدد کے نام پر آفت مچائی ہوئی ہے اور دنیا کے امن کو برباد کر ر ہے ہیں اب ہمیں مضبوط ہاتھوں کے ساتھ ان سے نپٹنا ہوگا اور ان کے ان رجحانات کو کچلنا ہوگا۔آذربائیجان میں جو ہوا وہ دراصل اسی کا شاخسانہ ہے آپ نے مغربی دنیا کے مواصلاتی نظام جس کو کہتے ہیں ٹیلی ویژن کا ہو یا ریڈیو یا اخبارات کا اس میں آپ نے یہ خبریں تو بار بار اور کثرت کے ساتھ سنی ہیں کہ آذربائیجان کے مسلمانوں نے آرمینیا کے عیسائیوں پر بہت مظالم کئے ہیں لیکن آرمینیا نے آذربائیجان کے مسلمانوں پر جو مظالم کئے ان کا ذکر نہیں سنتے حالانکہ ادنیٰ تدبر سے بھی یہ بات سمجھ آنی چاہئے کہ یہ جو محاورہ ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی “ یہ بڑا گہرا محاورہ ہے حقیقت پر مبنی محاورہ ہے لازماً اس کی ایک لمبی تاریخ ہے ان دونوں قوموں کی لڑائیوں کی ویسے ہی تاریخ ہے جیسے ہندوستان اور پاکستان کی آپس کی لڑائیوں کی تاریخ ہے اور جہاں جہاں جس کا زور چلا اس نے دوسرے فریق پر ظلم کیا۔یہ کہہ دینا کہ ایک ہی فریق ظلم کرتا چلا جارہا ہے اور اس میں جوش دکھا تا چلا جارہا ہے اور پھر اس جوش کی حالت میں تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے لیکن وہ ظلم سے باز نہیں آرہا محض ایک فرضی کہانی ہے اور کوئی معقول آدمی اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ آذربائیجان کےمسلمانوں نے اس حد تک ظلم پر کمر باندھی ہو اور ظلم توڑنے کا ایسا تہیہ کیا ہو کہ خواہ وہ خود بھی مٹ جائیں وہ ظلم سے باز نہیں آئیں گے یہ بات درست نہیں ہے۔واقعہ یہ ہے کہ دونوں قوموں میں بڑی دیر سے آپس میں پر خاش چلی آرہی ہے لڑائیاں ہوتی رہیں پہلے لڑکی نے آرمینا پر ظلم کیا پھر آرمینیا کا جب بس چلاٹر کی کے بعض حصوں پر مظالم توڑے یہ بعید نہیں کہ شروع میں لڑکی کا پلہ بھاری رہا ہو۔لیکن بعدازاں کیونکہ یہ وہی ممالک ہیں جو روسی اقتدار کے نیچے چلے گئے تھے اور ترکی سے ان کا تعلق ٹوٹ گیا تھا اس لئے تاریخی ورثے کے طور پر جو دشمنیاں انہوں نے پائی تھیں وہ جاری ہیں لیکن آپ