خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد ۹ 92 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء چہرے کو ایسا مکروہ اور داغ داغ کر کے دکھاتے رہے کہ ہر باشعور انسان اس سے گھن کھانے لگا۔اس دور میں یہ اس لئے ممکن تھا کہ روس اور روس کے ساتھی ممالک ان آزاد ممالک کے مقابل پر ایک بلاک بنائے کھڑے تھے اور وہ کچھ مسلمان ملکوں کی دوستی کا وہ دم بھرتے تھے اور ان سے کھیلتے تھے اور کچھ کا یہ دم بھرتے تھے اور اس طرح بڑے بڑے ملکوں کا جوڑ تو ڑ چھوٹے ملکوں کے جوڑ توڑ کی شکل میں ظاہر ہوا اور یہ مہرے تھے جن سے کھیلنے والے ہاتھ اور تھے مثلاً افغانستان میں جو واقعات رونما ہوئے عام پاکستانی مسلمان یا بعض علماء اپنی سادگی میں یہ سمجھتے ہیں کہ عظیم الشان اسلامی جہاد تھا جو بالآخر کامیاب ثابت ہوا اور دنیا کی ایک عظیم طاقت کو مسلمان مجاہدین نے شکست فاش دے دی یہ بھی ایک منظر ہے لیکن ایک اور بھی منظر ہے دراصل یہ لڑائی روس کی لڑائی تھی امریکہ کے ساتھ اور امریکہ کی لڑائی تھی روس کے ساتھ۔یہ دراصل ایک ویٹنام تھا جو اس سے پہلے بھی ظاہر ہو چکا تھا ویتنام میں جو خونزیز جنگ سالہا سال تک لڑی گئی اور وہ دنگل جو منایا گیا جس میں بڑے بڑے پہلوان ایک ملک کو اپنے پاؤں تلے روند تے چلے جاتے رہے کبھی ایک آگے بڑھتا اور کبھی دوسرا آگے بڑھتا بلکہ وہ مٹی جوان کے پاؤں تلے کچلی جاتی تھی وہ وینام کی مٹی تھی، نہ روس کی تھی، نہ امریکہ کی تھی، اسی طرح کا ایک ویٹنام افغانستان میں ظاہر ہوا۔ایک دیکھنے کا یہ بھی انداز اور یہ بھی زوایہ ہے اور دارصل جنگ نہ اسلام کی تھی نہ اشتراکیت کی تھی بلکہ روس اور امریکہ دو بڑی طاقتوں کی جنگ تھی اس میں مسلمانوں کو استعمال کیا گیا اور دونوں طرف لڑنے والے مسلمان تھے پس یہ کیسا عجیب جہاد تھا۔جس میں مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا تھا اور بڑی طاقتیں ان دونوں مسلمانوں کی پشت پناہی کر رہی تھیں پھر عراق ایران کی جنگ میں بھی ایسا ہی واقعہ رونما ہوا کہ وہاں بھی جہاد کے نام پر جو انتہائی خونریز اور بے مقصد جنگ لڑی گئی وہ دنیا کی دو عظیم طاقتوں کی جنگ تھی ایک طرف روس کا بلاک مددگار بنا ہوا تھا اور دوسری طرف امریکہ کا بلاک مددگار بنا ہوا تھا اور دونوں پیسے لوٹ رہے تھے اور اپنے بوسیدہ ہتھیار بیچ بیچ کر ان سے تیل کی دولت کمارہے تھے اور وہ اپنی اس دولت کو اپنے ہی گھر جلانے کے لئے استعمال کر رہے تھے تو دنیا میں جو بساط دنیا ہے اس میں نظر آنے والے مہرے اور ہیں اور مہرے چلانے والے ہاتھ اور ہیں یہ وہ مہرے نہیں جن کے اپنے پاؤں ہیں اور اپنی سوچیں ہیں جو اپنی سوچوں کے ذریعہ اپنے پاؤں کی