خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد ۹ 94 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء نے دیکھا کہ روس نے بھی جب آذربائیجان کی آزادی کی آواز کو دبایا ہے تو مسلمان کہہ کر دبایا ہے اور مقصد یہ تھا کہ مغربی دنیا اس بات سے مطمئن ہو جائے کہ روس اپنے دہریانہ عقائد کے باوجود عیسائیت کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ نہیں رکھتا اس لئے روس نے جہاں جہاں بھی باقی جگہ پر آزادی کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے وہاں مغربی دنیاے بیک زبان اس کی مخالفت کی ہے لیکن آذربائیجان کے معاملے میں بیک آواز اس کی حمایت کی ہے پس جن خطرات کی میں نشاندہی کر رہا ہوں یہ بھی ان میں سے ایک معمولی آغاز ہے آئندہ کیا ہونے والا ہے اس کی تفاصیل اگر سوچی بھی جاسکتی ہیں تو یہاں بیان کرنے کا موقعہ نہیں لیکن میں جماعت احمدیہ کو یہ خصوصیت کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ چونکہ جہان نو کے جو پاک نقشے ابھرنے ہیں ان کا جماعت احمدیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے اس لئے اس ٹوٹ پھوٹ کے دور میں جہاں پہلا نظام ٹوٹ رہا ہے ٹوٹ پھوٹ کے خطرات سے عالم اسلام کو بچانے کے لئے جماعت کو دعا کرنی چاہئے اور دعائیں ہی نہیں کرنی چاہئیں بلکہ نصیحت کے ذریعے راہنمائی کے ذریعے عالم اسلام کی مدد کر نی چاہیئے۔اس وقت عالم اسلام کا سب سے بڑا خطرہ راہنمائی کے فقدان سے ہے یہ ایک ایسا خوفنا ک بحران ہے سارے عالم اسلام میں کہ جس سے بڑا بحران کبھی دنیا کی کسی قوم کے سامنے نہیں آیا کبھی دنیا کی کوئی بڑی قوم ایسے خطر ناک بحران سے نہیں گزری جیسا کہ عالم اسلام گزر رہا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے راہنمائی خود مقرر کر دی تھی خدا تعالیٰ نے خودان کو ایک عظیم قائد عطا فر ما دیا تھا جو الہام کے نور سے روشنی لے کر راہیں متعین کر رہا تھا اس قیادت کا یہ انکار کر چکے ہیں اس امامت کو یہ ٹھکرا چکے ہیں۔پس ان کے دنیا کے بنائے ہوئے امام دنیا کی بنائی ہوئی قیادتیں ان کے کسی کام نہیں آسکتیں اور عملاً عالم اسلام کے عالمی واقعات کے متعلق جور د عمل ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے کوئی اندھا کسی طرف سے کوئی دھکا کھا کر یہ معلوم کئے بغیر یا یہ معلوم کر سکنے کے بغیر کہ گڑھا کدھر ہے اور بچاؤ کی جگہ کدھر ہے کسی ایک طرف دوڑ پڑے کوئی راہنما مسلمانوں میں آج نہیں جو ان کے لئے راہیں متعین کر سکے وہ ایک راہنما جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی عالمگیر قیادت ابھری ہے جسے خدا نے مقرر فرما دیا ہے اس کا بدقسمتی سے مسلمان قوم انکار کر چکی ہے اور جہاں جہاں انکار میں بڑھ رہی ہے وہاں وہاں زیادہ سے زیادہ مصائب ٹوٹ رہے ہیں۔