خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد ۹ 90 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء گزرنے کے بعد ساری کی ساری قومی اقتصادیات گھاٹے میں چلی جاتی ہے۔اس وقت ان لوگوں کو احساس ہوگا کہ انسان کا بنایا ہوا نظام انسان کے لئے کافی نہیں اور یہ مصنوعی نظام اشتراکیت کے کسی کام نہیں آئے گا بعینہ وہی نقشہ ہے جو آج ہمارے سامنے ابھر رہا ہے اور در حقیقت سب سے بڑا دباؤ جواشترا کی دنیا پر ہے وہ اقتصادی ناکامی کا ہے جب انفرادی طور پر انسان کو اپنی مرضی سے کمانے کے مواقع مہیا نہ ہوں اور وہ بحیثیت انسان ایک نوکر بن کر رہ جائے اور اس کے لئے نوکری سے نجات کی اور خود کسی معنی میں مالک بننے کی کوئی راہ باقی نہ رہے سوائے اس کے کہ وہ زبر دستی حکومت پر قابض ہو تو لازماً یہی نتیجہ نکلتا ہے جو ہمارے سامنے ہے۔پھر دو قسم کے طبقات ابھرتے ہیں۔یہ نہیں کہ طبقات مٹ جاتے ہیں بجائے اس کے کہ چھوٹے چھوٹے مالک اور چھوٹے چھوٹے مزدوروں کے گروہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہوں ایک دوسرے پر انحصار کر رہے ہوں۔ساری قوم بحیثیت مجموعی ایک مالک بن کر ابھرتی ہے اور ساری قوم اس کے مقابل پر مزدور بن کر اس بڑے اور زیادہ طاقتور مالک کے سامنے بالکل بے بس ہو جاتی ہے اور انفرادی طور پر ان کے لئے کچھ حاصل کرنے کے لئے کوئی راہ باقی نہیں رہتی سوائے ایک راہ کے کہ انسان حکومت کے طبقے میں داخل ہو جائے چنانچہ ایسے اقتصادی نظام کو چلانے والی پارٹیاں ایک چھوٹا سا طاقتور گروہ تیار کرتی ہیں جن میں وہ ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اور حکومت کی ساری باگ ڈوران چند ہاتھوں میں چلی جاتی ہے جن سے عوام الناس کبھی بھی اپنی مرضی کے مطابق وہ نہیں چھین سکتے۔تو ایک طاقتور طبقہ پھر بھی ابھرتا ہے لیکن اقتصادی لحاظ سے اس سے کہیں بدتر حالت میں جو آزاد اقتصادی نظاموں میں ہمیں نظر آتی ہے نہ یہ اسلامی نظام ہے نہ وہ اسلامی نظام ہے اس لئے یہ خیال کر لینا اس نظام کا ٹوٹنا یعنی اقتصادی نظام کا ٹوٹناوہ نئے نقشے بنا رہا ہے جس کا میں نے اپنے شعر میں ذکر کیا تھا، یہ ایک غلط بات ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں۔یہ جو نقشے مٹ رہے ہیں یہ مٹنے کے لائق تھے اس لئے مٹے ہیں لیکن وہ نقشے جو اشترا کی دنیا سے باہر بنے ہوئے ہیں وہ بھی مٹنے کے لائق ہیں کیونکہ وہ بھی اسلامی نہیں اور انہیں بھی لازماً مٹنا ہے اور یہ جو تاریخی ادوار میں یہ فوراً ایک دو سالوں میں چند سالوں میں ظاہر نہیں ہوا کر تے مکمل نہیں ہوا کرتے ان کو کچھ وقت لگتے ہیں لیکن جیسا کہ حالات نے پلٹا کھایا ہے انسانی تو قعات سے بہت زیادہ تیزی کے ساتھ یہ حالات تبدیل ہوئے ہیں اس لئے بعید نہیں کہ دوسری دنیا کے حالات بھی تیزی کے