خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد ۹ 91 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء ساتھ تبدیل ہوں کس رنگ میں ہوں اس کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا بہت سے ایسے خدشات ہیں جن کے متعلق تفصیلی ذکر کی اس وقت ضرورت نہیں لیکن میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آج کی دنیا کے دانشوران تبدیلیوں کو امن کی طرف بڑھتی ہوئی تبدیلیاں سمجھ رہے ہیں یہ یقینی اور درست بات نہیں انہیں تبدیلیوں کی کوکھ سے عالمگیر جنگیں بھی جنم لے سکتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آزاد دنیا یعنی جو د نیا آزاد کہلاتی ہے اور حقیقت میں آزاد نہیں اس آزاد دنیا کا نظام اپنی جگہ ٹوٹے گا اور پھر خدا تعالیٰ نئی دنیا کے نظام بنائے گا یا ایک عالمی جنگ کی صورت پیدا ہوگی اور حالات صاحب اقتدار لوگوں کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور وہ بے اختیار ہو جائیں گے اور پھر اس جنگ کے بعد وہ نیا نظام ابھرے گا۔جس کے متعلق میں نے اپنے شعر میں اشارہ کیا تھا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک تمنا کا اظہار تھا مگر اس تمنا کی بنیاد قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر تھی یعنی وہ تمنالا زما پوری ہونے والی تمنا تھی یقینی تھی اس کا یہ پہلو کہ ہمارے دیکھتے میں عنقریب پوری ہو جائے یہ وہ پہلو ہے جس کا میں نے ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ ہماری توقع سے بہت بڑھ کر اور بہت تیزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہمیں دکھا دیں۔اس ضمن میں جن خدشات کا تیسری دنیا کو سامنا کرنا پڑے گا وہ بہت بڑی فہرست ہے اور اس خطبے میں میرا ارادہ نہیں کہ اس تفصیلی بحث میں جاؤں ایک خطرے کی نشاندہی میں کرنا چاہتا ہوں کہ اس نئے جوڑ توڑ کے نتیجے میں جو شروع ہو رہا ہے عالم اسلام کے لئے کئی قسم کے خطرات رونما ہوں گے ایک لمبے عرصے تک مسلمان حکومتوں سے بعض مغربی ملک اس طرح کھیلتے رہے ہیں کہ ان کے اندر جو تشدد کے رجحان تھے ان کو انہوں نے خود ہی ہوا دی اور دوستیاں ایسے ملکوں سے کیں جو اسلام کے نام پر تشدد کے قائل تھے اور ان کی پشت پناہیاں کیں اور ان کو ہتھیار مہیا کئے ان کے سیاست کے رُخ متعین کیے اور ان کے سر پرست بن کر ان سے ہر قسم کا استفادہ کرتے رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا میں اسلام کے متشددانہ رجحانات یایوں کہنا چاہئے کہ عالم اسلام کیونکہ اسلام کے تو متشددانہ رجحانات نہیں ہیں عالم اسلام کے متشددانہ رجحانات کو اسلام کے متشددانہ رجحانات کے طور پر پیش کرتے رہے ایک طرف ان سے کھیلتے رہے ان سے استفادہ کرتے رہے ان کی حوصلہ افزائیاں کرتے رہے ان کی دوستی کا دم بھرتے رہے دوسری طرف آزاد دنیا میں اسلام کے