خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد ۹ 89 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء انگریزی میں کہتے ہیں Wed کرنا گویا شادی ہو گئی ہے ایک دماغ کی ایک صنعت کے ساتھ اس شادی کے نتیجے میں جیسے بچے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جب دماغ ترقی یافتہ صنعتوں کے ساتھ امتزاج کرتے ہیں تو نئی نئی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔یہ سارے ایسے واقعات ہیں جو لازماً رونما ہونے والے ہیں اور انگلستان جیسا ملک جو ابھی یورپ کے مقابل پر دن بدن تھوڑی حیثیت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے اور بے حقیقت ہوتا جا رہا ہے۔اس کے خدشات اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔جب مشرقی جرمنی کی طاقتیں مغربی جرمنی کے ساتھ ملیں گی تو اس کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوں گے وہ جرمنی کو اتنی بڑی طاقت میں تبدیل کر دیں گے کہ بعید نہیں کہ اس کے مقابل پر سارا یورپ بھی بے حیثیت دکھائی دینے لگے۔پھر مشرقی یورپ کے دوسرے ممالک ہیں جو طبعا اپنی روایات کے لحاظ سے بھی اور زبان کے قرب کے لحاظ سے بھی اور جغرافیائی قرب کے لحاظ سے بھی اگر روس سے ہٹیں گے تو ان کا زیادہ تر انحصار جرمنی پر ہوگا اور جرمنی کو ان سے براہ راست تقویت ملے گی اور ان کو جرمنی سے براہ راست تقویت ملے گی تو نئے نقشے اس پہلو سے بھی ابھرنے والے ہیں پھر روس نے جدید تبدیلیاں برداشت کی ہیں، اس کے بہت سے محرکات ہیں لیکن سب سے بڑا محرک اقتصادی دباؤ ہے۔مارکسزم بعض پہلوؤں سے کامیاب ہوا ہو تو ہوا ہو لیکن قومی اقتصادیات کے لحاظ سے ناکام ہو چکا ہے۔اس کو تسلیم کئے بغیر اب اشترا کی دنیا کے پاس کوئی چارا نہیں رہا۔بالکل وہی نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے ابھر رہا ہے۔جو ۱۹۴۵ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی لاہور میں ہونے والی تقریر میں بیان فرمایا تھا جو اس عنوان سے چھپی تھی۔اسلام کا اقتصادی نظام اس زمانے میں ہم نے احمد یہ ہوٹل میں اس تقریر کا انتظام کیا تھا احمد یہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کہلایا کرتی تھی جس میں میں بھی ایک ممبر تھا۔چنانچہ احمدی طلباء نے اس تقریر کا اہتمام کروایا تھا اور مجھے یاد ہے کہ اس میں آپ نے اشتراکیت کے گہرے مطالعے کے بعد جو پیشگوئیاں کی تھیں کہ لازماً اشتراکیت کا انجام آخریہ ہونا ہے۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ قومی طور پر تمام اقتصادی ذرائع کو اپنا کر انفرادی مقابلے کی دوڑ ختم ہو جاتی ہے اور اجتماعی طور پر فوراً یہ احساس پیدا نہیں ہوتا لیکن کچھ عرصے کے بعد چالیس پچاس سال