خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 81

خطبات طاہر جلده 81 خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۹۰ء ریا کاری کے ملک میں دھکیل سکتی ہے۔اس لئے یہ آخری شکل ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس کے نتیجے میں فوراً جماعت میں ریا کاری پیدا ہو جائیگی مگر اگر اس طریق کو استعمال کرنا شروع کیا جائے تو ہرگز بعید نہیں کہ کچھ کمزور اور ریا کار لوگ بھی شامل ہو جائیں اور وہ لوگ جو بے ریا خدمت کرنے والے ہیں ان میں بھی رفتہ رفتہ ریاء کاری کا کیڑا داخل ہونا شروع ہو جائے اس لئے میں اس تجویز کو پسند نہیں کرتا۔اگر چہ بعض صورتوں میں مثلاً ہسپتال وغیرہ میں ، ہمارے وقف جدید کے دفتر میں بھی بعض نام کندہ ہیں لیکن ایسا اگر ہو گیا ہے تو اسکو دستور نہیں بنانا چاہتے۔ان کے نام کی تختی لگ جائے تو اجازت مل گئی لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، استثنائی طور پر ایسا کبھی ہو جائے تو ہو جائے اسے دستور بنانا نہایت خطرناک ہوگا کیونکہ اس کے بغیر جو جماعت قربانی کیلئے تیار ہو اس کو ایسے مصنوعی ذرائع سے قربانی کی طرف مائل کرنا ان کو مصنوعی بنا دے گا اس لئے اس تجویز کو تو میں نے رد کر دیا ہے۔ایک دوست نے ابھی کچھ عرصہ پہلے مجھے لکھا کہ میںاتنی رقم پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ میرے بزرگ مرحوم والدین کا نام یا جس رشتے دار کیلئے بھی انہوں نے کہا تھا، ان کا نام اس پر ضرور کندہ ہو۔میں نے کہا نا منظور۔مجھے آپ کا ایک آنہ بھی نہیں چاہئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔اس شرط پر میں نہیں کروں گا۔انہوں نے معذرت کا خط لکھا۔شرمندگی کا اظہار کیا اور کہا میں روپیہ دیتا ہوں۔اس کو چاہے پھینک دیں کوئی شرط نہیں۔اس پر میں نے ہدایت کی کہ ان کے بزرگوں کا نام کندہ بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ اب مشروط نہیں رہا۔تو بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ چندہ غیر مشروط ہوتا ہے لیکن اعلامیہ کا بھی چونکہ حکم ہے اس لئے جماعت کی طرف سے اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ دوسرے لوگوں میں تحریک پیدا ہو۔یہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر مشروط نہیں ہونا چاہئے یعنی چندہ اس لحاظ سے مشروط نہیں ہونا چاہئے کہ اس میں کسی قسم کی ریا کاری کا کوئی پہلو ہو۔بہر حال یہ تجویز میں نے رد کر دی۔پھر میں نے ان سے کہا کہ میں ساری دنیا میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ آپ کی مدد کریں۔اگر امریکہ کی جماعت کو توفیق نہیں ہے تو وہ آپ کے لئے قربانی کریں۔چنانچہ وہ تحریک بھی میں نے کر دی اور وہ تحریک کرتے وقت میرے پیش نظر یہ بات تھی کہ آج امریکہ دنیاوی لحاظ سے اتنا دولت مند ملک ہے اور اس طرح وہ خیرات کے بہانے لیکن اپنے ذاتی مقاصد کیلئے ساری دنیا کو Aid دے رہا ہے۔