خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 82
خطبات طاہر جلد ۹ 88 82 خطبه جمعه ۲ فروری ۱۹۹۰ء یہ ایک اچھا لطیفہ ہوگا کہ جماعت احمد یہ امریکہ کو Aid دے رہی ہو اور جماعت احمدیہ کے غریب ممالک بھی کچھ روپیہ امریکہ بھجوار ہے ہوں۔تو ہم وہ صاحب خیرات لوگ ہیں۔جہاں غریب ممالک کی طرف سے میں نے وہ تحریک کر دی تھی مگر چونکہ اس کو یاد نہیں کرایا گیا اور ایک دفعہ کہنے کے بعد کوئی ایسا نظام نہیں تھا جو جماعت کو بار بار یاد دہانی کرائے اس لئے اس سلسلے میں کمزوری پیدا ہوئی ہے اور غیر ممالک سے بہت تھوڑی مالی قربانی کی اطلاع ملی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ان کا یہی خیال ہو کہ امریکہ کو کیا ضرورت ہے۔لیکن جب میں نے وضاحت کر دی ہے کہ کیوں ضرورت ہے تو اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ سب دنیا کی جماعت کو امریکہ کی کم سے کم اس معاملے میں ضرور مدد کرنی چاہیئے۔دوسرے مجھے ابھی بھی یقین ہے کہ امریکہ کی جماعت میں توفیق ہے وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے علم کے مطابق کم سے کم ایک سواحمدی ایسا ہے جو اتنا صاحب حیثیت ہے کہ اگر وہ چاہے تو مل کر اس ساری ذمہ داری کو ادا کر سکتا ہے۔کوئی اس میں شک کی بات نہیں لیکن چونکہ ایک مادہ پرست ملک ہے۔وہاں دولت بھی ہے اور دولت کی محبت بھی ہے اور معیار بدل گئے ہیں۔وہاں جماعت کے اندر قربانی کا معیار بڑھانے کیلئے بار بار نصیحت کی ضرورت ہے۔امیر صاحب جماعت ہوں یا اس معاملے میں جو سیکرٹری چندے کی تحریک کیلئے مقرر ہوئے ہیں، وہ ہوں، ان کو اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جماعت کی تربیت کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات ان کے سامنے بار بار لائیں جو قرآن اور حدیث سے مزین ہیں اور ان کی ایسی پاکیزہ تفسیران میں موجود ہے کہ ان حوالوں سے جب ہم اس تفسیر کو پڑھتے ہیں تو دل بے اختیار خدا کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کیلئے اچھلنے لگتا ہے۔اس ذریعے کو اختیار کریں۔دوسرے نصیحت کے ذریعے کو اختیار کریں۔ان کو بار بار انگیخت کریں کہ دیکھو تم صاحب حیثیت جماعت ہو تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہئے اور یہ مصنوعی ذریعے چھوڑو کہ قرضے دو یہ کرو، وہ کرو کسی اور سے مانگو۔کمپنیوں سے ٹھیکے کرو کہ دس سال میں ہم تمہیں ادا کریں گے تم ہمیں ایک دفعہ بنا دو۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو امریکہ کی جماعت کی حیثیت کے شایان شان نہیں۔اگر انہوں نے اپنی حیثیت کم بنالی ہے تو ان کی غلطی ہے۔مجھے یقین ہے کہ ان میں حیثیت ہے توفیق ہے اور اگر وہ قربانی کریں گے تو ان کی توفیق بڑھے گی کم نہیں ہوگی۔پتہ نہیں اس