خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 80
خطبات طاہر جلد ۹ 80 80 خطبه جمعه ۲ار فروری ۱۹۹۰ء غریبانہ عمارت ہی بنا سکیں گے لیکن امریکہ کی غریبانہ عمارت افریقہ کی غریبانہ عمارت سے مختلف ہونی چاہئے کیونکہ ہر جگہ ایک لفظ کے معنی ایک نہیں ہوا کرتے۔غیروں کے مقابل پر غریبانہ ہی ہوگی لیکن امریکہ کی حیثیت سے ہر حال اس غریبانہ مسجد میں اور غریبانہ مشن میں افریقہ کے غریب علاقوں کے مشنوں اور مساجد سے فرق ہونا چاہئے۔اس پہلو سے ایک سکیم بنائی گئی۔پہلے تو انہوں نے بہت زیادہ خرچ کی بنائی تھی۔پھر اسے کانٹ چھانٹ کر چھوٹا کیا گیا اور اب جو آخری صورت میں مسجد کا نقشہ منظور ہوا ہے اس میں کوئی اسراف نہیں ہے یعنی ہرگز غیر معمولی خرچ نہیں ہے۔سادگی کوملحوظ رکھا گیا ہے۔کم خرچ کو لو ظا رکھا گیا ہے لیکن چونکہ وہاں مہنگائی بھی بہت ہے اس لئے سر دست ان کا اندازہ اڑھائی ملین کا ہے یعنی ۲۵ لاکھ ڈالر کا۔اس سلسلے میں گزشتہ ایک سال سے مجھے امریکہ کی جماعت کی طرف سے فکر انگیز خط مل رہے ہیں اور امیر جماعت امریکہ اس بارے میں فکر مند ہیں کہ یہ روپیہ کیسے پورا ہوگا جو عام تحریکات انہوں نے کی ہیں اس کے نتیجے میں جو وعدے موصول ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس مد میں بہت ضرورت ہے۔اسلئے وہ نئی نئی ترکیبیں بھی سوچ رہے ہیں اور مجلس عاملہ بار بار بیٹھتی ہے بار بار نہیں تو کم سے کم ایک دو دفعہ ضرور اس مقصد کیلئے بیٹھی ہے ) کہ کیا کیا ترکیبیں استعمال کی جائیں۔جہاں تک بینکوں سے سود پر روپے لینے کا تعلق ہے وہ میں نے منع کر دیا ہے اور یہ فیصلہ میں نے آغاز ہی سے کیا تھا کہ ہرگز بینکوں سے سود لے کر ہم اپنی مساجد نہیں بنائیں گے۔اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی برکت پڑی کہ پہلا فیصلہ مجھے یاد ہے کہ کینیڈا میں ہوا تھا، اس کے بعد سے مسلسل کینیڈا میں عظیم الشان مراکز قائم کئے گئے۔بڑی بڑی زمینیں خریدی گئیں مگر ایک دمڑی بھی کسی بینک سے سود پر نہیں لینی پڑی امریکہ کو بھی میں نے یہی کہا کہ اس بات کو تو بھول ہی جائیں۔یہ کوئی رستہ نہیں ہے۔پھر اور کئی رستے تجویز ہوئے جماعت میں قرض کی تحریک کا بھی سوال اٹھا اور ایک مجھے یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ یہ تحریک کی جائے کہ جو لوگ بھی کسی خاص حد تک قربانی کریں گے ان کے نام دعاؤں کے لئے مسجد پر کندہ کئے جائیں گے۔وہ بھی میں نے ان کو سمجھا کر یہ تجویز رد کر دی ہے کیونکہ یہ وہ مصنوعی ذرائع ہیں جو ایک خطر ناک بارڈر پر کھڑے ہیں ( بار ڈ رکا ترجمہ ذہن میں نہیں آ رہا۔اس لئے بعض دفعہ لفظ اٹک جاتا ہے ) ایسی حد پر کھڑے ہیں جو معمولی سی لغزش میں انسان کو خود نمائی اور