خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 79

خطبات طاہر جلد ۹ 79 خطبه جمعه ۲ فروری ۱۹۹۰ء طبقہ یا درمیانے درجے کا موجود ہے، وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی کا معیار بہت بلند ہے مثلاً اڑیسہ ہے۔اڑیسہ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں جماعت کی اکثریت سفید پوش ہے یا غریب ہے اور آمد کے لحاظ سے سب سے زیادہ استقلال کے ساتھ قربانی کرنے والا وہ صوبہ ہے۔اس کے علاوہ بعض جماعتوں کے نام لینے کی ضرورت نہیں۔وہاں بڑے بڑے سیٹھ ہیں۔بڑے بڑے صاحب حیثیت لوگ ہیں اگر وہ دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کریں تو ہندوستان کو کم سے کم ایک حد تک خود کفیل ہو جانا چاہئے لیکن ہندوستان میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ بیرونی مدد زیادہ ہو اور ہم اس لئے مجبور ہیں کہ وہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رو چل پڑی ہے اور احمد بیت کی طلب پیدا ہوگئی ہے اس لئے ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش تو میں کرتا رہتا ہوں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ضرورت بہر حال پوری ہونی ہے۔اس غرض سے میں نے ہندوستان کو بھی ان ملکوں میں شامل کر لیا تھا جن کیلئے اس صدی کی پہلی خصوصی تحریک ہونی چاہئے۔ویسے بھی میں نے اس سے پہلے ایک یہ وجہ بیان کی تھی کہ ہندوستان وہ خوش نصیب ملک ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا ہوئے۔آج بھی ہمارا دائمی آخرین“ کا مرکز وہیں موجود ہے اور سب دنیا کا اس لحاظ سے ہندوستان محسن ہے۔اگر اظہار تشکر کے طور پر باقی دنیا ہندوستان کی مدد کرے تو ہر گز کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔ایک اور ملک جس کا ذکر ضروری ہے وہ امریکہ ہے امریکہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت حیثیت ہے۔یعنی مالی لحاظ سے خدا تعالیٰ نے سارے ملک کو ہی غیر معمولی توفیق عطاء فرمائی ہے۔اس نسبت سے جماعت امیر تو نہیں کہلاسکتی لیکن مقابلہ باقی ملکوں کے مقابل پر احمدی کی حیثیت مالی لحاظ سے بھی دوسرے ممالک کے احمدیوں سے بہتر نظر آتی ہے۔اب یہ سو فیصد مقابلہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہر شخص کی بہتر ہو یا غیر ملکوں میں کوئی امریکہ سے زیادہ امیر آدمی نہ ہو۔یہ مراد نہیں ہے عمومی طور پر جو کیفیت دکھائی دیتی ہے، جو بالعموم صادق آتی ہے وہ یہی ہے کہ امریکہ کی جماعت صاحب توفیق اور صاحب حیثیت جماعتوں میں سے ہے لیکن وہاں بھی ہندوستان کی طرح ابھی توفیق کے مطابق چندے نہیں بڑھے۔چنانچہ جب میں نے وہاں مسجد واشنگٹن کی تحریک کی اور جیسا کہ ہونا چاہئے تھا میں نے جماعت کو نصیحت کی کہ آپ کے ملک کے شایان شان جگہ ہونی چاہئے سب دنیا کی نظریں ہیں اور جماعت کی ضروریات کے مطابق اور جماعت کی حیثیت کے مطابق اگر چہ ہم بہر حال ایک