خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 741 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 741

خطبات طاہر جلد ۹ 741 خطبہ جمعہ کے دسمبر ۱۹۹۰ء بدنصیب لوگ وہ ہیں جو ان پر دوں کے نتیجے میں حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جو پردے بنائے ہیں وہ خاص مقاصد کے لئے بنائے ہیں۔اب روحانی دنیا میں بھی جب ہم پردوں کی بات کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے قائم کئے ہوئے پر دے کچھ مصالح رکھتے ہیں لیکن بدنصیب لوگ اُن پردوں کے نتیجے میں حق بات سے محروم رہ جاتے ہیں۔پردے اس لئے خدا تعالیٰ نے عطا کئے انسان کو تا کہ گندی باتوں سے بچے ، لغو باتوں سے بچے۔وہ اُن چیزوں سے بچے جو خدا سے دور لے جاتی ہیں۔یہ تھا استعمال پر دے بنانے کی یہ حکمت تھی اس لئے بنایا تو خدا ہی نے ہے مگر انسان جب چیزوں کے غلط استعمال کرنے لگتا ہے تو وہ چیز جو فائدے کی خاطر بنائی جاتی ہے وہ نقصان کا موجب بن جاتی ہے۔جہاں بھی آپ یہ پڑھتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیا، ہم نے پردے بنائے ، ہم نے خاص فاصلے حائل کئے روکیں پیدا کیں تو نعوذ باللہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شر پہنچانے کے لئے ایسا کیا۔مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے بعض مصلحتوں کی وجہ سے بعض چیزیں بنا رکھی ہیں ، بعض روکیں پیدا کرنے کی صلاحیت انسان کو بخشی ہے۔آنکھیں بند کر سکتا ہے۔یہ بھی اس کی ایک نعمت ہے اگر انسان آنکھیں بند نہ کرسکتا تو اُس کا نظام عصبی تباہ و برباد ہوجا تا۔نیند نہیں آسکتی تھی اس کو اور ہر وقت کی آنکھیں کھلی ہوئی تو ایک عذاب ہے۔اب دیکھیں آنکھیں بند کرنا ایک نعمت کے طور پر دیا گیا تھا مگر آپ اگر روشنیوں سے آنکھیں بند کر لیں اور جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتے پھریں اور مصیبت میں مبتلا رہیں تو معمولی روز مرہ کی زندگی آپ کے لئے عذاب بن سکتی ہے۔ایک دفعہ ہم نے سیر کرتے ہوئے مقابلہ کیا کہ آنکھیں بند کر کے کون سیدھا چل سکتا ہے تو آنکھیں بند کر کے اول تو چلنا ہی بڑا مشکل ہے، بہت بڑی مصیبت ہے۔آدمی کا بیلنس بگڑ جاتا ہے۔دوسرے رُخ کا پتا ہی نہیں چلتا۔چنانچہ جب میں اور میری بچیاں ساتھ تھیں ہم نے کہا ہم آنکھیں بند کر کے سیدھا چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں نے کہا جب میں آواز دوں گا ”ہاں“ تو اُس وقت آنکھیں کھولنا۔جب میں نے آواز دی تو کوئی کسی طرف نکلا ہوا تھا، کوئی کسی طرف نکلا ہوا تھا اور کوئی اُس سے پہلے ہی کسی جگہ ٹھوکر کھا کر سفر بند کر چکا تھا۔اب آنکھیں بند کرنا ایک نعمت ہے مگر غلط جگہ آنکھیں بند کرنا تو نعمت نہیں وہ تو ایک مصیبت بن جاتی ہے روزمرہ کی زندگی انسان نہیں گزار سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے پر دے بنارکھے ہیں جو خاص مقاصد کے لئے بنائے گئے ہیں