خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 740 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 740

خطبات طاہر جلد ۹ 740 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء ساری رات آوازیں نکالتی ہے اور ان آوازوں کے ذریعے مچھلیاں ایک دوسرے کو رات کو پیغام دے رہی ہوتی ہیں کہ ہم یہاں ہیں یہاں آ جاؤ۔چنانچہ اس نے اسی قسم کی آواز ریکارڈ کی یعنی خود بنا کر اور سمندر کے اندر ایک لاؤڈ سپیکر جس پر پانی اثر نہیں کرتا تھاوہ لڑکا یا اور کیمرے مقرر کئے جو اُس کی تصویریں کھینچیں۔جب وہ وہی آواز نکالتا تھا تو اُس لاؤڈ سپیکر کے گرد بڑی تیزی کے ساتھ وہ مچھلیاں حملہ کر کے آتی تھیں اور اُس وقت پتا چلا کہ یہ ہیں آواز نکالنے والی مچھلیاں۔سمندر کے اندر وہ آواز بہت ہی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے لیکن وہ اتنی قوی آواز تھی کہ سمندر سے باہر بھی سنائی دیتی تھی۔یہ عام طور پر نہیں ہوتا لیکن سمندر کے اندر تو بعض مچھلیوں کی آواز میں اتنی طاقت کے ساتھ حرکت کرتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے تین تین سو میل دور باتیں کر لیتی ہیں۔چنانچہ اب با قاعدہ سائنسدانوں نے یہ تحقیق کر کے عملاً تین تین سو میل بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ دور اُن مچھلیوں کی آواز میں پکڑی ہیں اور ان کو حل کیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ یہ پیغام اس طرح بھیجتی ہیں۔تو سمندر کے نیچے بھی پھر وہ David Attenborough چلا جاتا ہے آوازوں کے آلوں کے ساتھ اور وہاں خدا کی ایک عجیب کائنات دکھائی دیتی ہے۔اس قدرشور برپا ہے، اس قدر ہنگامہ ہے کہ بظاہر ہمارے کان کچھ بھی نہیں سن رہے، کوئی آواز بھی نہیں آرہی لیکن سمندر کی دنیا اس طرح بول رہی ہے، اس طرح باتیں کر رہی ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں نا مچھلی ھٹے میں چلے جاؤ، شور وغل بر پا ہوا ہوتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کوئی کیا کہ رہا ہے اگر اُن سب کی آواز میں انسان سمجھنے لگے اور انسان سُننے لگ جائے تو سمجھنا تو در کنار اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں یہ اتنی طاقتور آوازیں ہیں کہ انسان اُن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پس اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ ہم نے کانوں پر پردے ڈالے ہیں جن کو تم دیکھتے نہیں ہو، دیکھ سکتے نہیں ہوامر واقعہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے پردے بنا رکھے ہیں یعنی ظاہری دنیا میں بھی وہ پر دے بنے ہوئے ہیں جن کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔Wavelengths بدلنے کے نتیجے میں ایک پردہ بن گیا۔آپ خاص قسم کی آوازیں سنتے ہیں، بعض دوسری قسم کی آواز میں سُن ہی نہیں سکتے ورنہ اگر سنتے تو اپنی آوازیں سننے کے بھی اہل نہ رہتے اس قدر طاقتور آوازیں ہیں اتناز بر دست شور ہے کہ پردوں کے پر نچے اُڑ جائیں۔پس خدا تعالیٰ نے پردے رکھے ہوئے ہیں حفاظت کی خاطر لیکن