خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد ۹ 742 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء مگر یہ بد نصیب ایسے ہیں کہ پردے غلط جگہوں پہ استعمال کرتے ہیں۔بعض پہلوؤں سے وہ تیز نظر رکھتے ہیں، بعض پہلوؤں سے کچھ بھی نہیں دیکھتے۔بدنصیبی سے ایسے پردے بعض مسلمان علماء کی آنکھوں پر بھی ہیں بعض چیزیں وہ نہیں دیکھ سکتے اور عجیب حالت ہے کہ جس قرآن کریم نے یہ عظیم را ز ہمیں سمجھائے۔ایسے عظیم راز جود نیا کی اور کسی کتاب میں نہیں ملتے وہ مسلمان خدا کی کائنات کی تخلیق پر غور کرنے سے عاری رہے۔ایک دور تھا چند سو سال کا یعنی بغداد میں جب اسلامی مملکت کا مرکز تھا جس میں سائنسدانوں نے بڑی ترقی کی ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر وہ ماضی کی بات بن چکی ہے۔اب ان چیزوں پر غور کے لئے مسلمانوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور غیر کھولتے ہیں لیکن مسلمان ذکر کی طرف تو بہر حال مائل ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ ذکر کی طرف مائل نہیں ہوتے۔کسی نے آنکھ پر ایک پردہ گرا رکھا ہے کسی نے دوسرا پردہ گرا رکھا ہے اور جہاں تک دلوں کی کیفیت کا تعلق ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دلوں پر تو ہم نے کئی قسم کے پر دے بنار کھے ہیں۔ایک نہیں بہت سے پردے ہیں جو حائل ہو جاتے ہیں۔یہ جو مضمون ہے اس سے متعلق میں پھر انشاء اللہ کسی وقت بیان کروں گا اب وقت زیادہ ہو رہا ہے اب دوسری آیت کی طرف آکر آپ کو مختصراً اس کا پہلی آیت سے تعلق بنا کر دکھاتا ہوں یعنی تعلق تو ہے لیکن دکھانا چاہئے کہ کیا تعلق ہے۔معاً اس مضمون کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے یعنی بظاہر چھوڑ کر وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتَوْران اے محمد ! اسی طرح ہم نے تیرے اور اُن لوگوں کے درمیان بھی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے نہ دکھائی دینے والے پر دے بنارکھے ہیں۔جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ان کے پہلے کچھ نہیں پڑتا۔قرآن ذکر ہے مراد یہ ہے کہ جب تو ذکر الہی کرتا ہے اُس قرآن کے ذریعے جو خدا نے تجھے عطا کیا ہے تو تو لذتوں کی دنیا میں کھویا جاتا ہے۔کلیۂ خود فراموش ہو جاتا ہے لیکن یہ جولوگ سُن رہے ہیں ان کو کچھ مجھ نہیں آرہی ہوتی۔ہم نے ایسے پر دے بنارکھے ہیں گویا ان کی سننے کی Wavelength ہی اور ہے اور عملاً روحانی دنیا میں مختلف Wavelengths ہیں۔مختلف قسموں کی آوازیں ہیں جو صاحب عرفان سمجھ سکتے ہیں اور جن کو عرفان نصیب نہ ہو وہ نہیں سمجھ سکتے۔تو دیکھئے قرآن کریم میں ان