خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 717
خطبات طاہر جلد ۹ 717 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء ہیں تو پھر ایک دوسرے پہلو کے لئے تیار ہو کر نکل جاتے ہیں اور کوئی waste نہیں۔ضیاع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ناممکن ہے کہ ہم خدا کی اس زمین اور اس کے جو میں سے ایک ذرہ بھی ضائع کر سکیں کیونکہ وہ دوبارہ ری سائیکل Recycle ہوتا ہے اور یہ تو از ن اتنا عظیم الشان ہے کہ اتنی بڑی زمین، اتنی بڑی اس کی جو اور ان گنت ذروں پر مشتمل، لیکن ایک ذرہ بھی بلا مبالغہ اس میں سے ضائع نہیں ہو رہا۔جس طرح چاہیں آپ اس کو استعمال کر کے اس کا حسن چاٹ جائیں ، اس کو ختم کر دیں۔وہ جو بھی نئی شکل اختیار کرے گا کسی اور پہلو سے وہ جلوہ دکھانے لگے گا کسی اور کے لئے حسین بن کر ابھرے گا۔ایک کا زہر ہے تو دوسرے کے لئے تریاق بن جائے گا ایک کی تریاق ہے تو وہ کچھ دیر کے بعد اس کے لئے زہر بنتی ہے اور ایک اور کیلئے تریاق بنتی ہے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پڑھتے وقت اگر انسان ٹھہر کے سوچے اور خدا تعالیٰ کی ذات کی وسعت اور عظمت کا تصور کرے اور جس طرف نظر ڈالے وہاں حمد ہی کا مضمون دکھائی دے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان ساری عمر سورۃ فاتحہ پڑھتے وقت صرف الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا حق ادا کر سکے ، بالکل ناممکن ہے۔پس کون کہتا ہے کہ یہ بار بار دہرائی جانے والی ام الکتاب انسان کے لئے بوریت اور اکتاہٹ کا مضمون پیدا کرتی ہے، اکتاہٹ کے مواقع پیدا کرتی ہے ہر گز نہیں، ہر انسان کی اکتاہٹ اس کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔اگر اسے محبت کا سلیقہ نہیں تو ہر چیز سے وہ اکتا جائے گا، اچھی سے اچھی چیز بھی اس کو بھلی معلوم نہیں ہوگی۔پس اگر اکتاہٹ سے پناہ مانگنی ہے تو تو اپنے اندر محبت کا سلیقہ پیدا کریں۔آپ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ کسی بات سے بھی خوش نہیں ہوتے۔ان کے ماتھے پر تیوری چڑھی ہوئی ، جو چیز مرضی دیں کہ نہیں جی ! فضول بکو اس۔ہر چیز پر تنقید کرتے ، ہر چیز ان کو بری لگتی ہے۔قنوطی جیسے، جہاں جاتے ہیں لوگوں کو مصیبت پڑ جاتی ہے۔اس لئے نہیں کہ ان کے سامنے خدا کی کائنات حمد سے خالی ہوتی ہے۔اس لئے نہیں کہ دنیا میں اچھے لوگوں کا فقدان ہوتا ہے یا خو بیاں ہی دنیا سے غائب ہو چکی ہوتی ہیں۔پس ان کے اندر ایک یبوست پائی جاتی ہے، ایک ایسی خشکی ہوتی ہے جو ان کو محبت سے عاری کر دیتی ہے۔پس اگر محبت کی نظر پیدا کریں یعنی حسن دیکھنے اور اس سے استفادے کی نظر پیدا کریں تو خدا تعالیٰ کی حمد آپ کو ساری کائنات میں عظیم تر وسعتوں کے ساتھ اس طرح بکھری ہوئی