خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 716

خطبات طاہر جلد ۹ 716 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء سات مضامین سے باندھ کر تفصیل سے یہاں بیان کروں لیکن یہ نمونہ آپ کو دے رہا ہوں تا کہ ان باتوں پر غور کر کے اپنی نمازوں کے ان سات برتنوں کو ایسے رس سے بھر دیں کہ ہر برتن میں آپ کے لئے ایک تسکین بخش شربت موجود ہو جسے پی کر آپ لذت حاصل کریں۔اب ربوبیت کے مضمون کے ساتھ حمد کا جو تعلق ہے وہ بہت ہی گہرا اور بہت ہی وسیع ہے۔میں نے آپ کے سامنے کھانے کی مثال پیش کی۔کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کھانا جب فضلے میں تبدیل ہو جاتا ہے ، گندگی اور بد بو میں تبدیل ہو جاتا ہے تو پھر کہاں حمد اس میں باقی رہ سکتی ہے اور حمد کے مضمون کو میں اس کے ساتھ کس طرح باندھوں گا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ نظر گہری کر کے دیکھو ربوبیت کا اس کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے کیونکہ جو چیز تمھارا گند ہے۔وہ خدا کی کائنات میں بعض اور مخلوقات کے لئے ایک نعمت ہے اور وہ نعمت مختلف شکلوں میں اس کی دوسری مخلوق کو پہنچ رہی ہے۔ایسی بدبودار کھا د جس کے پاس سے گزرا بھی نہیں جاتا وہ پودوں کے لئے ایک نعمت ہے۔اسی سے رنگ برنگ کے پھول اور خوشبوئیں میں پیدا ہوتی ہیں اور وہ رزق پیدا کرتی ہیں جو آپ کے لئے حمد بن جاتا ہے۔تو کیسا عظیم مضمون ہے رَبِّ العلمین کی حمد کا کہ کوئی ایک پہلو بھی کائنات کا ایسا نہیں جو استعمال ہونے کے بعد بھی حمد کے مضمون سے خالی ہو۔ہاں ایک طرف سے خالی ہوتا ہے دوسری طرف سے بھر جاتا ہے ایک کی ربوبیت کرتا ہے جب اس کی پیاس بجھا دیتا ہے تو خدا کی ایک اور مخلوق کی ربوبیت لئے تیاری کرتا ہے۔پس اس پہلو سے جب آپ کائنات پر نظر ڈالیں تو کوئی ایک زندگی کا ذرہ بھی نہیں ہے جو کسی نہ کسی حالت میں کسی چیز کے لئے باعث حمد نہ ہو۔عالمین نے اس بات کو کھول دیا ہے کہ تم خدا کو اپنی طرح ایک چھوٹی ذات نہ سمجھا کرو جب اس کی طرف حمد منسوب کرو اور اس کی ذات میں حمد تلاش کرو تو رب العلمین کے طور پر مد تلاش کرو اور ساری کائنات کی ربوبیت کے لئے اس نے جو نظام جاری فرمایا ہے اس پر غور کرو تو تمھاری نظر چندھیا جائے گی۔ساری زندگی لمحہ لحہ بھی تم غور کرتے چلے جاؤ گے تو یہ مضمون ختم نہیں ہوگا، ناممکن ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔اس زمین میں اور زمین کی ایک فضا میں جو اس زمین کا حصہ ہی ہے جتنی بھی مختلف قسم کی کیمیاء موجود ہیں مختلف قسم کے ذرات موجود ہیں یہ تمام کے تمام مختلف شکلوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں اور ایک پہلو سے استعمال ہوتے