خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد ۹ 718 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء اور پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ ایک ذرے کے دل میں بھی آپ اتر جائیں تو اس میں بھی حمد کا ایک نیا جہان آپ کو دکھائی دینے لگے گا۔پھر خدا رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی ہے۔ان صفات باری تعالیٰ کے ساتھ آپ حد کو باندھیں تو پھر آپ دیکھیں کتنے کتنے نئے حسین نقشے کائنات کے آپ کے سامنے ابھرتے ہیں اور ہر نقشے کے ساتھ خدا کی ہستی کا تصور وابستہ ہوتا ہے ہرحسین چیز کو خدا تعالیٰ حسن عطا کر رہا ہوتا ہے۔تو وہ نما ز لذت سے کیسے خالی ہو جاتی ہے جس نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہو اور بے پناہ حسن کے جہان وہ ایک نظر کے سامنے کھولتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ آپ وقت نہ ہونے کی وجہ سے یا غور کی زیادہ قوت نہ پانے کی وجہ سے استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے آگے گزر جائیں تو آپ کی مرضی ہے ورنہ سورہ فاتحہ کے ہر لفظ پر ٹھہر جائیں تو ساری زندگی اس ایک لفظ میں گزر سکتی ہے اور بغیر اکتاہٹ کے گزر سکتی ہے۔ایک عجیب مضمون ہے ہر ہر لفظ میں جو آگے ایک پورا جہاں بناتا چلا جاتا ہے۔پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا مضمون ہے۔عبادت کا حمد سے بہت گہرا تعلق ہے اگر حمد نہیں ہوگی تو عبادت بھی نہیں گی اور یہ دعویٰ کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ صرف تیری عبادت کرتے ہیں ، ایک بہت بڑا دعویٰ ہے جو حد کے مضمون سے گزرے بغیر بالکل چھوٹا بن جاتا ہے۔جب تک انسان یہ اقرار نہ کرے اور پورے صدق دل سے اس اقرار کو سمجھ کر اس کا قائل نہ ہو کہ تمام حمد خدا کے لئے ہے اس وقت تک تمام عبادات خدا کے لئے ہو ہی نہیں سکتی۔اگر حمد کا کوئی پہلو کسی اور کے لئے ہے تو تو عبادت کا ہر پہلو خدا کیلئے نہیں ہو سکتا۔یہ ایک ایسی حسابی بات ہے جس کے اندر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔یہ Equation ہے ایک Mathematics کی اور ایسی قطعی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس Equation کو بدل نہیں سکتی۔حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کو جو اتنا عظیم مقام عطا ہوا کہ کائنات کی ہر چیز تو در کنار ہر نبی سے آگے بڑھ گئے۔تو اس مسئلے کو سمجھنے کا آخری نقطہ یہ ہے کہ آپ کی ساری حمد بلا استثناء خدا کے لئے ہوگئی تھی۔اس لئے ایک وہ شخص تھا جو جب یہ کہتا تھا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ تو کامل طور پر اس اقرار میں سچا تھا کیونکہ واقعہ آپ کی ساری حمد خدا کے لئے تھی اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ہم جب خدا سے مدد مانگتے ہیں تو اس سے پہلے یہ اقرار کر رہے ہوتے