خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد ۹ 714 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء یابی کی راہیں الگ ہوتی ہیں، اس کے سامنے کوئی دوست ہوتا ہے، کوئی مطلوبہ چیز ہوتی ہے کوئی اور ایسی طلب ہوتی ہے جس کے ساتھ اس نے اپنی حمد کو وابستہ کیا ہوتا ہے۔پس لذت تو وہاں آتی ہے جہاں لذت کا قبلہ ہو۔اگر قبلہ اور طرف ہواور آپ کا منہ اور طرف ہو تو آپ کو بے چینی پیدا ہو گی لذت نہیں آئے گی۔پس لفظ حمد پر غور کرنا بہت ضروری ہے اور اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اپنی ذات کا تجزیہ کیا جائے اور انصاف کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ انسان پہلے یہ تو معلوم کرے کہ مجھے کون کون سی چیزیں اچھی لگتی ہیں۔کون کون سی چیزیں ایسی ہیں جن سے مجھے پیار ہے۔ان چیزوں کو اگر نماز کے ساتھ باندھ دیا جائے تو نماز بھی اچھی لگنے لگے گی۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے حقیقت میں انسان کو بڑی وسیع نظر سے اپنی ساری زندگی اور اس کے مقاصد کا جائزہ لینا پڑے گا اور وسیع نظر سے ہی نہیں بلکہ گہری نظر سے بھی اور جب انسان اپنے حمد کے مقامات کا تعین کرلے کہ میرے نزدیک یہ چیز باعث حمد ہے۔یہ چیز قابل حمد ہے، یہ چیز تعریف کے لائق ہے تو اس وقت الحمد للہ کا ایک اور مضمون اس کے سامنے اُبھرے گا۔وہ جب غور کرے گا تو جو چیز بھی اس کو اچھی لگتی ہے اس کو اچھا بنانے میں خدا کی تقدیر نے کام کیا ہے اور خدا چاہے تو اس کو اچھا رکھے گا۔جب چاہے گا وہ اچھی نہیں رہے گی اس کی اچھائی ذاتی نہیں اور دائمی نہیں۔بعض دفعہ ایک چیز ایک خاص حالت میں اچھی لگتی ہے۔اچھانیا بنا ہوا گھر ہے، بہت ہی خوبصورت لگتا ہے۔اس کے ساتھ انسان کی طبعی حمد وابستہ ہو جاتی ہے لیکن پچاس، ساٹھ ،ستر سال کے بعد جب اس کی چولیں ڈھیلی ہو جائیں ، جب وہ جراثیم سے بھر جائے ، ہر طرف اس کا رنگ اجڑ جائے۔اس کا نقشہ بدلنے لگے ، چیزیں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں تو اسی گھر سے وحشت ہو گی۔حمد رفتہ رفتہ اس کو چھوڑ دے گی۔ایک خوبصورت چیز سے محبت ہے۔جب تک اس کی خوبصورتی قائم ہے ، اس وقت تک طبعاً اس کی طرف رغبت ہوگی اور جب خوبصورتی مٹ جائے تو پھر یا تو انسان اس سے متنفر ہو کر دور بھاگنے لگتا ہے یا اگر وہ صاحب وفا ہے تو ایک اور صفت اس کے کام آتی ہے اور وفا اس کو اس کے ساتھ تعلق قائم رکھنے پر مجبور کرتی چلی جاتی ہے لیکن وہ طبعی بے اختیار محبت جو حسن کے ساتھ وابستہ ہے وہ ویسی نہیں رہ سکتی اسی لئے وفا اور جفا میں یہی فرق ہے۔حسن اگر ہو گا تو نہ وفا کی ضرورت ہے نہ جفا کا سوال۔جب حسن مٹ جائے یا پیچھے ہٹنے لگے تبھی دومضامین آگے بڑھتے ہیں اور صاحب وفا کا