خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 715 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 715

خطبات طاہر جلد ۹ 715 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء تعلق اس چیز سے قائم رہتا ہے جو حسن چھوڑ بیٹھی ہے اور صاحب جفا اس سے آنکھیں بدل لیتا ہے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ احمد للہ کی ایک تفسیر ان چیزوں پر غور کرنے سے بھی آپ کے سامنے ابھرے گی۔جو چیز بھی آپ کو پیاری ہے اس پر آپ غور کر کے دیکھ لیں ، اس کا حسن دائمی نہیں۔اس کی لذت دائمی نہیں ہے۔بلکہ اس میں لذت موجود بھی ہو تو سیری کے بعد آپ کی نظر میں اسکی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔جو چاہیں مزیدار کھانا آپ کھا ئیں ، آپ کو میسر ہو کثرت کے ساتھ عین آپ کی خواہشات کے مطابق تیار ہوا ہو۔جب پیٹ بھر جائے گا تو اس کی حد ختم ہو جائے گی۔دوبارہ جب آپ کو کوئی دے گا تو آپ پہلے تو تکلف سے مسکرا کر کہیں گے کہ نہیں نہیں کوئی ضرورت نہیں۔اگر وہ زبر دستی کھلائے گا تو آپ کا دل چاہے گا کہ اس کو جوتیاں ماریں کہ اس نے کیا مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔بچے چونکہ بے تکلف ہوتے ہیں وہ صاف ماؤں کے منہ پر بات مارتے ہیں کہ بس نہیں کھانا۔جو مرضی کر لیں تو حمد حسن کے ہوتے ہوئے بھی ختم ہو جایا کرتی ہے لیکن ایک ذات ہے جس نے وہ حمدان چیزوں میں رکھی ہے۔اس کی حمد دائمی ہے۔وہ ذاتی حمد ہے اور اسی نے پیدا کی ہے جب چاہے وہ حمد چھین لے۔جب ان باتوں پر آپ غور کرتے ہیں تو آپ کا ہر قبلہ خدا کی طرف اشارہ کرنے لگتا ہے اور قبلہ اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔چنانچہ غالب نے اسی مضمون کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔یعنی ان معنوں میں تو نہیں کہ سورۃ فاتحہ سے تعلق میں لیکن چونکہ وہ صوفیانہ مزاج بھی رکھتا تھا، اس لئے بعض دفعہ اچھی اچھی حکمت کی باتیں بیان کر دیا کرتا تھا، کہتا ہے۔ہے پرے سر حدا در اک سے اپنا مسجود قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں (دیوان غالب صفحہ : ۱۴۶) کہ ہم بظاہر قبلے کی طرف منہ کرتے ہیں لیکن ہمارا مسجود قبلے سے پرے ہے۔قبلہ فی ذاتہ مسجود نہیں ہے۔جو نظر رکھنے والے لوگ ہیں ، صاحب نظر لوگ وہ قبلہ کو قبلہ نما کہتے ہیں قبلہ دکھانے والا۔تو اس نگاہ سے اگر آپ کائنات کی کسی چیز کو بھی دیکھیں تو ہر چیز کے ساتھ حد کا تصور وابستہ ہے اور ہر چیز قبلہ نما بن جاتی ہے۔پس صرف وہی چیزیں نہیں جو آپ کے لئے محمود ہیں اور آپ کو محبوب ہیں بلکہ کسی چیز پر بھی نظر ڈالیں کوئی چیز بھی حمد سے خالی نہیں اور اس کے ساتھ ہی فرمایا لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اور ربوبیت کا حمد سے ایک بہت گہرا تعلق ہے۔میرے لئے تو ممکن نہیں ہو گا کہ حمد کے مضمون کو ان