خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد ۹ 713 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء قرار دیا اور بار بار دھرائی جانے والی آیات قرار دیا تو یہی وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر آنحضرت نے ہر نماز کی ہر رکعت میں اسے پڑھنا فرض قرار دے دیا اور بار بار دھرائی جانے لگی یعنی نمازوں میں سیہ ام الکتاب یا سورۃ فاتحہ بار بار دھرائی جانے لگی۔اب میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ یہ وہ ایک ایسی بار بار پڑھی جانے والی سورۃ ہے جس کے اندر اس کے متعلق اٹھائے جانے والے سارے سوالات کا جواب ہے۔سورۃ فاتحہ کی اس مناسبت کے ساتھ تفسیر کرنا جو میں ذکر چلا رہا ہوں بہت ہی زیادہ وقت چاہتا ہے لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ مختصر وقت میں اس مضمون کا تعارف آپ کو کروادوں تاکہ بعد میں آپ سوچتے رہیں اور اس سے استفادہ کریں۔جوسات مضامین اس میں بیان ہوئے ہیں ان میں سے چار صفات باری تعالیٰ ہیں اور ایک عبادت کا عہد ہے اور ایک استعانت ہے یعنی مدد مانگنا اور ایک ہدایت کا ذکر ہے یعنی ہدایت طلب کرنا۔یہ سات باتیں اس میں بیان ہوئی ہیں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتح: ۲ تا ۴) یہاں جو لفظ الْحَمدُ ہے اس کا اس سارے مضمون سے تعلق ہے۔پس سورۃ فاتحہ میں صفات باری تعالیٰ چار ہیں لیکن حمدان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک دائمی لازمی ہمیشہ کا تعلق رکھتی ہے اور بعد میں بھی جتنے مضامین بیان ہوئے ہیں ان سب کا حمد سے تعلق ہے۔پس حمد سورۃ فاتحہ کا ایک رنگ ہے۔اسی لئے اسے الحمد بھی کہا جاتا ہے۔جہاں تک حمد کا تعلق ہے یہ چونکہ ہر مقام شکر پر ادا کی جاتی ہے اس لئے جب بھی ہم نے خدا کا شکر ادا کرنا ہو تو الحمد کو شکر کے معنوں میں بھی ادا کرتے ہیں یعنی جب بھی کہنا ہو۔اے خدا! ہم تیرے بے حد ممنوں ہیں، تو نے بہت احسان کیا، تیرا شکریہ، تو الحمدللہ منہ سے نکلتا ہے گو یا حمد اور شکر دونوں ہم معنی ہو گئے اور کثرت استعمال نے یہ معنی حمد کو عطا کر دیئے ہیں۔تو سب سے پہلی بات جو سورۃ فاتحہ ہمیں بتاتی ہے جس کا ساری سورۃ فاتحہ کے مضمون سے تعلق ہے وہ حمد ہے اگر حمد کا لفظ بغیر سوچے ادا کر دیا جائے تو باقی سارے مضامین خالی رہیں گے کیونکہ حمد کا دروازہ وہ دروازہ ہے جس سے داخل ہوکر سورۃ فاتحہ کے باقی مضامین سمجھ آتے ہیں اور ان میں رس بھرتا ہے۔تو پہلی نصیحت تو یہ کہ سورۃ فاتحہ جب پڑھتے ہیں تو لفظ الحمد پر ٹھہر کر غور تو کیا کریں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔سب تعریف، ہر قسم کی تعریف مکمل تعریف خدا ہی کے لئے ہے۔ایسا شخص جس کو نماز میں مزا نہیں آتا اس کے قبلے جدا ہوتے ہیں،اس لذت