خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 672 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 672

خطبات طاہر جلد ۹ 672 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء صاحب نے ایسی کیں جن کی وجہ سے میرے دل میں ان کی بہت ہی عزت قائم ہوئی اور محبت قائم ہوئی اور میں دعا کرتا رہا کہ اللہ کرے کہ دنیا کے دیگر راہنما بھی اس طرح حق پرست بن جائیں۔سب سے پہلے تو لاکھوں اور کروڑوں مظلوم اچھوتوں کے لئے یہ تن تنہا کھڑے ہو گئے اور اپنی پارٹی کے ان لیڈروں کے اختلاف کو بھی چیلنج کیا جو ان کے اقتدار کے لئے خطرہ بن سکتے تھے اور تمام ملک میں یہ قانون رائج کیا کہ وہ اچھوت جو ہزاروں سال سے مظلوم چلے آ رہے ہیں ان کے حقوق کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے لئے حکومت میں نوکریوں کے تحفظات دیئے جائیں اور ایک خاص فیصد مقرر کر دی گئی کہ اتنی فیصد تعداد کی نسبت کے لحاظ سے لازماً اچھوت قوموں کے لئے حکومت کی ملازمتیں ریز رور کبھی جائیں گی۔یہ ایک بہت بڑا قدم تھا اور ایسے ہندوستانی ملک میں یہ قدم اُٹھانا جہاں ایک لمبے عرصے سے اونچی ذات کا قبضہ رہا ہو، جہاں ان کا مذہب انہیں کہتا ہو کہ اونچی ذات کے حقوق زیادہ ہیں اور نچلی ذات کے کوئی بھی حقوق نہیں ، ایک بہت غیر معمولی عظمت کا مظاہرہ تھا جو بہت کم دنیا کے لیڈروں کو نصیب ہوتی ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ جب اس کے خلاف ایک شور برپاہوا تو سینہ تان کے اس کا مقابلہ کیا اور کوئی پرواہ نہیں کی کہ اس کے نتیجے میں اقتدار ہاتھ سے جاتا ہے کہ نہیں۔ابھی یہ شور و غوغا کم نہیں ہوا تھا کہ ان کے خلاف سازشیں کرنے والوں نے بابری مسجد کے تنازعہ کو زیادہ اُچھالنا شروع کیا اور لاکھوں کروڑوں ہندو اس بات کے لئے تیار ہو گئے کہ وہ بابری مسجد کی طرف کوچ کریں گے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور وہاں وہ پرانا تاریخی لحاظ سے موجود یا غیر موجود جو بھی شکل تھی رام کے مندر کی دوبارہ تعمیر کریں گے۔اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنا اور ہندو فوج کی اکثریت کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ اگر تمہارے ہم مذہب بھی جتھہ در جتھہ یہاں حملہ کرنے کی کوشش کریں تو ان کو گولیوں سے بھون دولیکن مسجد کے تقدس اور ہندوستان کے قانون کے تقدس کی حفاظت کرو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔بلا شبہ بہت سے ہندو ان کوششوں میں مارے گئے اور ہندو فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے ، ہند و پولیس کے ہاتھوں زدو کوب کئے گئے اور اس کے علاوہ بہت سے زخمی ہوئے ، بہت سے قید ہوئے۔ان کے راہنما کو جو بہت بڑی طاقت کا مالک ہے اور جس کے اشتراک اور اتحاد کی وجہ سے ان کی حکومت قائم تھی ان کو قید کر دیا گیا۔غرضیکہ یہ جانتے ہوئے کہ جس شاخ پر میں بیٹھا ہوا ہوں اسی شاخ کو کاٹ رہا ہوں۔