خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 673
خطبات طاہر جلد ۹ 673 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء بیوقوفی کی وجہ سے نہیں بلکہ بہادری اور اصول پرستی کی خاطر اس عظیم راہنما نے گرنا منظور کر لیا، خواہ گر کر اس کی سیاسی زندگی کو بھی ہمیشہ کے لئے خطرہ درپیش تھا لیکن کوئی پرواہ نہیں کی۔پس ایسے راہنما جو انصاف کے نام پر کہیں بھی قربانی کے لئے تیار ہوتے ہیں، اسلامی تعلیم یہ ہے کہ ان کی عظمت کو تسلیم کیا جائے اور ان کی مدد کی جائے کیونکہ وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ:۳) میں کسی مذہب کے نام پر تعاون کا حکم نہیں بلکہ انصاف اور خدا خوفی کے نام پر تعاون کا حکم ہے۔اچھی باتوں اور خدا خوفی کے نام پر تعاون کا حکم ہے۔بہر حال یہ اب آنے والی تاریخ بتائے گی کہ ہندوستانی قوم نے کس حد تک ان واقعات سے نصیحت پکڑی ہے اور کس حد تک وہ اپنے سگوں کو اپنے سوتیلوں سے پہچانے کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے مگر عالم اسلام کو ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا۔عالم اسلام کو ایسی صورت میں ہندوستان کی حکومت کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اچھے کو تقویت دینی چاہئے تھی ، ان کے لئے لازم تھا کہ یہ اعلان کرتے کہ جو ہندوانتہاء پسند کر رہے ہیں سخت ظلم کر رہے ہیں اور ہم برداشت نہیں کریں گے لیکن ہندوستان کے وہ راہنما جو اس ظلم کے خلاف نبرد آزما ہیں اور کمزوری محسوس کرتے ہوئے بھی وہ سینہ تان کر اس کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں ہم ان کو ہر طرح سے تقویت دینے پر تیار ہیں۔ہر طرح سے ان کی مدد کرنے پر تیار ہیں۔یہ انصاف کی آواز تھی جو اسلام کی آواز ہے اور جہاں تک دھمکیوں کا تعلق ہے، یہ گیدڑ بھبھکیوں سے تو کبھی کوئی ڈرا نہیں۔باقاعدہ تمام مسلمان ممالک کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے تھا اور ہندوستانی حکومت کو کوئی ٹھوس پیغام دینا چاہئے تھا۔یہ بتانا چاہئے تھا کہ تمہارے مفادات اتنے گہرے اور اتنے قیمتی مفادات، اسلامی ممالک سے وابستہ ہیں کہ اگر تم نے بالآخر یہ حرکت ہونے دی تو تمہارے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا کیونکہ یہ بات انصاف کے خلاف نہیں ہے کہ کسی قوم سے اقتصادی بائیکاٹ اس لئے کیا جائے کہ اس نے جارحیت کا طریق اختیار کیا ہے۔پس سزا دینے کے مختلف طریق ہوتے ہیں اور یہ سزا تو دراصل ایک ظلم کو روکنے کے لئے ذریعہ بنی تھی۔صرف ایک کو یت کی چھوٹی سی سرزمین سے جس پر ایک اسلامی ریاست قائم تھی پانچ لاکھ ہندوستانی اپنے اقتصادی مفادات کو قربان کر کے واپس اپنے وطن جانے پر مجبور ہو گئے۔اب اگر کویت میں پانچ لاکھ جمع تھے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سارے عالم اسلام میں کتنے ہندو مفادات اور کتنے ہندوستانی مفادات ہوں گے اور ہندوستان کی موجودہ اقتصادی