خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 671

خطبات طاہر جلد ۹ 671 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء آخرت میں تو بہر حال ان کا رسوا اور ذلیل ہونا مقدر ہو چکا ہے سوائے اس کے کہ یہ تو بہ کریں۔پس پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے اثرات غیر دنیا پر پڑتے ہیں، غیر دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات دوسری دنیا کے حصوں پر پڑتے ہیں۔غیر مسلم دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے اثرات اسلام کی دنیا پر پڑتے ہیں۔غرضیکہ اس طرح یہ دنیا ایک ایسی دنیا نہیں ہے جو مختلف جزیروں کی صورت میں ایک دوسرے سے الگ رہ رہی ہو۔ایک جگہ ہونے والے واقعات کا اثر موجوں کی طرح دوسرے حصے کے اوپر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور ظلم ہمیشہ ظلم کے بچے دیتا ہے۔پس اگر ہم نے دنیا میں انصاف کو قائم کرنا ہے اور ہم ہی نے دنیا میں انصاف کو قائم کرنا ہے تو ہمیں ظلم کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ہمیں انصاف اور امن کے حق میں جہاد کرنا ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے: انصر اخاك ظالما او مظلوما جب پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مظلوم بھائی کی تو ہم حمایت کریں، ظالم بھائی کی کیسے حمایت کریں؟ آپ نے فرمایا! ظلم سے ان کے ہاتھ روک کر ان کی حمایت کریں۔( بخاری کتاب المظالم والغضب حدیث نمبر : ۲۲۶۳) پس جہاں جہاں بھی مسلمان ممالک نے یہ غلط رد عمل دکھایا ہے اور اسلام کے نام پر نہایت ہی کر یہ حرکات کی ہیں اور ہندوؤں کے مندروں کو لوٹا یا منہدم کیا ہے ان کے ظلم سے ہاتھ روکنا ہمارا کام ہے اور یہی ان کی مدد ہے اور جہاں جہاں مظلوم مسلمان غیروں کے ظلم کی چکی میں پیسے جارہے ہیں وہاں جس حد تک بھی ممکن ہے ان کی مدد کرنا یہ بھی عین اسلام ہے اور اسی کا حکم حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس لئے احمدیوں کو ہر دو محاذ پر جہاد کے لئے تیار ہونا چاہئے۔سچا رد عمل تو یہ تھا کہ ایسے موقع پر سب سے پہلے تو تمام غیر مذاہب کے عبادت خانوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمان ممالک تیار ہو جاتے اور ہندوستان کے سابق وزیر اعظم وی۔پی۔سنگھ سے نصیحت پکڑتے۔وہ ایک عظیم راہنما ہے اگر چہ وہ اب طاقت پر فائز نہیں لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کی حق پرستی کی تعریف کی جائے۔ہندوستان کی بہت ہی بڑی بدنصیبی ہے، ایک تاریخی بدنصیبی ہے کہ اتنے عظیم الشان را ہنما کی راہنمائی سے محروم ہو گیا جس کے پیچھے چل کر ہندوستان کی کھوئی ہوئی ساری عظمتیں مل سکتی تھیں کیونکہ وہ راہنما جو حق پرست ہو اور حق کی خاطر اپنے مفادات کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو، آج کی دنیا میں قوم کو اس سے بہتر کوئی اور لیڈر میسر نہیں آسکتا۔دو باتیں وی۔پی۔سنگھ