خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 664 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 664

خطبات طاہر جلد ۹ 664 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء تو اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور بھیانک شکل دکھائی دیتی ہے۔ایک رسالہ The Plain Truth یہاں سے شائع ہوتا ہے، اس کے ایک صفحے میں سے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو علم ہو کہ دنیا کا جغرافیہ تبدیلی کرنے کا حق کن کو ہے اور کن کو نہیں ہے۔یہ لکھتا ہے: In November 1884, Representatives of 13 European Nations and The United States met in Berlin۔Having portioned out Africa among themselves, they agreed to respect each other's "spheres of influence"۔Soon only Ethiopia and Liberia remained independent nations۔(The Plain Truth, October 1990)۔۔۔۔۔In actuality the division of Africa was done with mainly In most black African European interests in mind۔۔۔۔states south of the sahara the standard of living is falling, the people hungry, bewildered and disillusioned۔A part of the blame must be placed on the way the continent was, and is, divided۔Only a divine power could reverse this (The Plain Truth Oct۔1990) tragedy peaceably۔لکھتا ہے کہ ۱۸۸۴ء میں ۱۳ یورپین ریاستوں کے نمائندے اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے نمائندے برلن میں اکٹھے ہوئے۔غرض کیا تھی؟ افریقہ کی بندر بانٹ۔چنانچہ تمام افریقہ کے براعظم کو انہوں نے وہاں ایسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا کہ کچھ ٹکڑے کسی کے حصہ اثر میں آئے اور کچھ ٹکڑے کسی اور کے حصہ اثر میں آئے۔غرضیکہ تمام یورپین ممالک نے اپنے اپنے حصہ اثر کے ٹکڑے چن لئے اور معاہدہ یہ ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے حصہ اثر کے ٹکڑوں میں دخل نہیں دیں گے فی الحقیقت یہ تقسیم تمام تر یورپین ریاستوں کے مفاد میں کی گئی تھی۔اس کی تفاصیل اس مضمون میں بھی بیان ہوئی ہیں اور تاریخ میں ویسے ہی یہ مضمون پوری