خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد ۹ 663 خطبه جمعه ۹ رنومبر ۱۹۹۰ء ہمیں دلچسپی ہے۔کہتے ہیں تیل میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں دلچسپی ہے تو امن عالم میں دلچسپی ہے۔ایک خطے کو جو زمین کا ایک ٹکڑا ہے اس کو کوئی ملک اپنے قبضے میں اس لئے کر لے کہ تاریخی لحاظ سے کچھ اور تھا یہ بالکل ایک لغو بات ہے اور ہم ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔آئیے اب ہم اس دور کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈال کر دیکھیں کہ کیا ہوتا رہا ہے اور یہ جو دلیل پیش کی جارہی ہے اس کی ماہیت کیا ہے۔جہاں تک عالم اسلام سے تعلق رکھنے والی بعض سرزمینوں کا تعلق ہے ان میں سب سے پہلے فلسطین کی سرزمین ہے جس کے ایک بڑے حصے پر اس وقت اسرائیل کی حکومت قائم ہے اور اس کے علاوہ بھی وہ حکومت سرکتی ہوئی اردن دریا کے مغربی ساحل تک پہنچ چکی ہے۔یہ حقیقت میں ایک تاریخی قضیہ تھا۔ہزاروں سال پہلے یہود کا اس سرز مین پر قبضہ تھا اور یہاں اُنہوں نے معبد تعمیر کئے اور اس زمین کو یہود کے نزدیک غیر معمولی اہمیت تھی۔مغربی طاقتوں نے اس قدیم تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس زمانے کا جغرافیہ تبدیل کیا اور اس قدر غیر معمولی ہٹ دھرمی اور جسارت کی کہ سارا عالم اسلام شور مچاتا رہ گیا اور عالم اسلام کے سوا دنیا کی بہت سی دوسری طاقتیں بھی عالم اسلام کی ہمنوائی میں اُٹھ کھڑی ہوئیں کہ تم تین چار ہزار سال پرانی تاریخ کو ٹولتے ہوئے راکھ کے انبار میں سے ایک چنگاری نکال رہے ہو اور اسے ہوا دے کر آگ بنانے لگے ہو۔تمہارا کیا حق ہے کہ آج اس پرانے دعوے کو قبول کرتے ہوئے اس حال کی دنیا کے نقشوں کو تبدیل کرو۔مگر وہی بڑی حکومتیں جو عراق کو تباہ کرنے پر آج تکی بیٹھی ہیں وہ متحد ہو گئیں اس بات پر کہ نہیں تاریخ کے نتیجے میں جغرافیے تبدیل کئے جائیں گے اور جغرافیہ تو تبدیل ہوتے رہنے والی چیزیں ہیں۔پھر آپ کشمیر کو دیکھ لیجئے ، پھر آپ جونا گڑھ کو دیکھ لیجئے۔پھر آپ حیدر آباد دکن کو دیکھ لیجئے غرضیکہ بہت سے ایسے ممالک ہیں جو آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اس دور میں جس میں سے ہم گزر رہے ہیں تاریخ کے حوالے سے یا بغیر کسی حوالے کے جغرافیے تبدیل کئے گئے اور تمام دنیا کی سیاست کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہوا اور سیاسی تقسیمیں دنیا میں جتنی بھی ہیں انہوں نے ان تبدیلیوں کے نتیجے میں کوئی واویلا نہیں کیا اور کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ سب دنیا مل کر اس تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیے کو پھر پہلی شکل پر بحال کر دے۔صرف یہی نہیں بلکہ ہم جب افریقہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں