خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد ۹ 665 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء چھان بین کے ساتھ ہمیں تالیف ہوا ہوا ملتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ان تقسیمات میں ہرگز کسی افریقن قوم یا کسی افریقن ملک کے مفاد کوملحوظ نہیں رکھا گیا اور قوموں کو نہ قومیت کی بناء پر تقسیم کیا گیا، نہ لسانی کجہتی کی بناء پر تقسیم کیا گیا، نہ دیگر مفادات کو دیکھا گیا، نہ اقتصادی مفادات کو دیکھا گیا، نہ یہ دیکھا گیا کہ کہاں قدرتی دولتیں یعنی معدنیات موجود ہیں اور کہاں نہیں اور نہ یہ دیکھا گیا کہ ریاستیں بہت چھوٹی ہو جائیں گی اور اقتصادی لحاظ سے آزادی کے ساتھ چلنے کی اہل بھی رہیں گی یا نہیں ، نہ یہ دیکھا گیا کہ ریاستیں اتنی بڑی ہو جائیں گی کہ ان کے نتیجے میں دیگر ریاستوں کے حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے اور ان کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔یہ وہ خلاصہ ہے جو ہمیں تاریخ میں بھی ملتا ہے اور اس مضمون میں بڑی عمدگی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں جو غیر معمولی تکالیف افریقہ کے باشندوں کو اٹھانی پڑیں اور اب بھی اٹھائے چلے جارہے ہیں اس کی تفصیل بھی آپ کو تاریخ میں ملتی ہے اور اس مضمون میں بھی مختصراً ذکر ہے۔خلاصہ کلام یہی ہے کہ سارے افریقہ کے براعظم کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں یا بعض بڑے ٹکڑوں میں اس نیت سے بانٹ دیا گیا کہ اس خطہ زمین کے تمام تر مفادات اہل مغرب کو حاصل ہوں اور حاصل ہوتے رہیں۔اب آزادی کے بعد افریقہ کو جو اکثر مسائل در پیش ہیں وہ اسی غلط تقسیم کے نتیجے میں ہیں کیونکہ قومی بجہتی کا تصور ابھرنے کے ساتھ لسانی اشتراک کے خیالات بھی اُبھرتے ہیں اور جغرافیے کی حدود انسان اور پاتا ہے اور قومی یکجہتی اور لسانی اشتراک کی حدود اور طرح دیکھتا ہے۔پھر تاریخی طور پر افریقہ کی قوموں کی ایک دوسرے سے دشمنیاں ہیں مثلاً لائبیریا میں بعض قوموں کی بعض دوسری قوموں سے دشمنیاں ہیں لیکن یہ صرف ملک کے اندر نہیں بلکہ بڑے بڑے علاقوں میں یہ دشمنیاں پھیلی پڑی ہیں اور ان میں سے بعض دشمنی والی قوموں کو اس طرح کاٹ دینا کہ وہ نسبتاً کمزور دوسری قوموں پر حاوی ہو جائیں، غرضیکہ بہت سی ایسی شکلیں ابھرتی ہیں جن کے نتیجے میں سارا افریقہ اس وقت بے اطمینانی ، عدم اعتماد اور منافرتوں کی لپیٹ میں ہے۔ان تمام نا انصافیوں کو دور کرنے کی طرف نہ کبھی کسی نے توجہ کی ، نہ اس کی ضرورت سمجھتے ہیں بلکہ اب تو معاملہ اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ان نا انصافیوں کو کالعدم کر کے افریقہ کی نئی تقسیم کی جائے تو جو موجودہ خطرات ہیں ان سے بہت زیادہ خطرات افریقہ کے امن کو درپیش ہوں گے۔