خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 652

خطبات طاہر جلد ۹ 652 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء ہونا چاہئے کہ ہم اتنا عرصہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔برعکس صورت ہے اور سینکڑوں ایسے افراد ہیں جنہوں نے کھوج لگا کر اپنے آباء واجداد کے بند کھاتے دوبارہ جاری کئے ہیں۔نہ صرف یہ کہ خود قربانی میں آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ اپنے مرحوم والدین یا دیگر بزرگوں کا جب ان کو پتا چلتا ہے کہ وہ یہ چندہ دیا کرتے تھے اور اب ان کا کھاتہ بند ہے کیونکہ وہ فوت ہو چکے ہیں تو پھر وہ ان کی طرف سے وہ چندے جاری کرتے ہیں۔بعض لوگوں نے مجھے یہ بھی لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرا کوئی بزرگ ایسا نہیں جس کا چندہ ہو لیکن میری بھی خواہش ہے اس لئے میری طرف سے کسی اور مرحوم بزرگ کا کھا نہ زندہ کر دیں اور اس کی طرف سے میں ادائیگی کرتا رہوں گا۔اسی طرح اخلاص کے اور بہت سے ایسے نمونے سامنے آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جماعت احمد یہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے اور پہلی نسلوں کی نیکیوں کا جھنڈا موجودہ نسلوں نے نہ صرف اٹھایا ہے بلکہ بلند تر کرتی چلی جارہی ہے لیکن یہ یادرکھنا ضروری ہے اور میرے لئے اور آئندہ خلفاء کے لئے آپ کو یہ یاد دلاتے رہنا ضروری ہے کہ جو جھنڈے بلند ہوا کرتے ہیں یہ دراصل پہلی نسلوں کی قربانی کے نتیجے میں ایسا ہوا کرتا ہے اور ان کی دعاؤں کے نتیجے میں ایسا ہوا کرتا ہے۔پہلی نسلوں کی دعائیں ان کی قربانیاں ان کی وہ حسرتیں کہ ہم دینا چاہتے تھے مگر دے نہیں سکے تو ایسی عظیم اور قوی دعائیں بن جایا کرتی ہیں کہ نسلاً بعد نسل وہ دعا ئیں پہنچتی رہتی ہیں اور پھل لاتی رہتی ہیں۔ابھی ایک خاتون نے امریکہ سے مجھے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ میری والدہ نے دودھ میں نہلایا ہے اور پھر یہ خیال کر کے کہ میں اپنے متعلق نہ سمجھ لوں، کہا کہ مجھے دودھ میں نہلایا ہے اس کی میں نے تعبیر کی اور وہ تعبیر یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے یاد کرا رہا ہے کہ تمہیں اگر کوئی توفیق مل رہی ہے تو اس میں مرحوم بزرگوں کی دعاؤں کا دخل ہے اور ان ہی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ صرف اگلی نسل کو نہیں بلکہ بعض دفعہ پشت در پشت ، سات سات پشتوں تک ان دعاؤں کے فیض پہنچاتا رہتا ہے۔یہ میں آپ کو اس لئے یاد کرواتا ہوں کہ ان بزرگوں کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔جب ہم بہت ہی عظیم قربانیاں کر رہے ہوں تو ہمارے اندر یہ تکبر نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ ہم بہت بڑے ہو گئے ہیں بلکہ ان قربانیوں کے نتیجے میں یہ پھل لگ رہے ہیں جو اس وقت بہت چھوٹی دکھائی دیتی تھیں لیکن اپنی اندرونی قوت کے لحاظ سے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی