خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 653
خطبات طاہر جلد ۹ 653 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء بڑی اور عظیم قربانیاں تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے بارہا خطبات میں ان ابتدائی قربانی کرنے والوں کے ذکر کئے ہیں جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا تو وہ اپنی کوئی چیز اٹھالا یا کرتے تھے۔کوئی کپڑا اٹھالائے ، کوئی عورت بیچاری بکری لے آئی کسی کے پاس اور کچھ نہیں تھا تو گھر کا ایک برتن اٹھالائی کہ میرے پاس یہی کچھ ہے اور کچھ نہیں ہے۔اسی کو قبول فرمائیں۔اس زمانے میں حضرت مصلح موعود نے پتا نہیں قبول فرمایا یا کس رنگ میں دلداری کی۔مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسمان کے خدا نے ان قربانیوں کو ضرور قبول فرمایا ہے اور آج جو ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کے مرد اور عورتیں اور بچے دینی قربانیوں میں آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں میرا تو یہ کامل یقین ہے کہ اس میں ان ابتدائی قربانی کرنے والوں کا بھی دخل ہے اور ان قربانی نہ کر سکنے والوں کی حسرتوں کا بھی دخل ہے۔حسرتوں کو بھی خدا قبول فرماتا ہے چنانچہ دیکھیں قرآن کریم میں ان صحابہ کا ذکر بھی موجود ہے اور کتنے پیار سے موجود ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے آپ کو جہاد کے لئے پیش کیا مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، کوئی سواری نہیں ہے جس پر میں تمہیں میدان جہاد تک پہنچا سکوں۔اس پر وہ اس حال میں واپس مڑے کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ہم جان بھی اپنی پیش نہیں کر سکتے۔اب دیکھیں یہ حسرت ہی تو تھی لیکن قربانی کرنے والوں کا اس شان کا ذکر آپ کو قرآن کریم میں اور نظر نہیں آئے گا جیسا کہ ان حسرتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔پس ہماری آج کی ترقیات میں جو ہم ۶ ۵ سال کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں اور جماعت احمد یہ ایک عظیم الشان درخت ہی نہیں بلکہ بے شمار عظیم الشان درختوں میں تبدیل ہوتی چلی جارہی ہے تو یاد رکھیں کہ ان میں اول نسل کے اولین احمدیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے لے کر آج تک ان سب احمدیوں کی قربانیوں کا دخل ہے جو قربانیاں پیش کر سکے یا قربانیاں پیش کرنے کی حسرتیں لے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔پس ان سب کے لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اور ان کی دعاؤں کے طفیل ان کی برکت کو محسوس کرتے ہوئے اگر ہم ان کیلئے دعائیں کریں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگلی نسلیں آپ کو دعاؤں میں یا درکھیں گی ، یہ فیض جاری رہے گا۔جو بیج آج آپ بوئیں گے وہ کل کے درخت بننے والے ہیں